پانی کے اندر ہاکی کے سالانہ ٹورنامنٹ میں ایشیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے شرکت کی، جہاں کھلاڑیوں نے سوئمنگ پول کی تہہ میں موجود پک کو حریف ٹیم کے گول تک پہنچانے کے لیے سخت مقابلہ کیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس کھیل کو ’’فزیکل ہیل‘‘ یعنی جسمانی اذیت سے بھرپور کھیل کا نام دیا گیا ہے، جس میں کھلاڑیوں کو سنورکل ماسک اور تیراکی کے فِنز پہن کر پانی کے اندر سانس روکتے ہوئے کھیلنا پڑتا ہے۔ کھلاڑی ضرورت پڑنے پر ہی سانس لینے کے لیے سطح پر آتے ہیں، جبکہ ان کی توجہ مسلسل کھیل اور پک پر مرکوز رہتی ہے۔
انڈر واٹر ہاکی میں ہر ٹیم کے 6 کھلاڑی ہوتے ہیں اور گول کیپر نہیں ہوتا۔ مقابلہ 30 منٹ پر مشتمل ہوتا ہے، جسے دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور درمیان میں 3 منٹ کا وقفہ دیا جاتا ہے۔ ریفریز فاؤلز پر نظر رکھتے ہیں اور سنگین خلاف ورزیوں پر کھلاڑیوں کو پنالٹی باکس میں بھیج سکتے ہیں۔
یہ کھیل 1954 میں انگلینڈ میں متعارف کرایا گیا تھا، جہاں غوطہ خوروں کو سردیوں میں فٹ رکھنے کے لیے اسے شروع کیا گیا۔ ابتدا میں اسے ’’آکٹو پش‘‘ کہا جاتا تھا۔ اگرچہ انڈر واٹر ہاکی ابھی اولمپکس کا حصہ نہیں، تاہم اسے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی جانب سے تسلیم کیا جاتا ہے اور 2019 میں اس نے جنوب مشرقی ایشیائی کھیلوں میں پہلی بار جگہ بنائی۔
ٹورنامنٹ کے منتظمین کو امید ہے کہ زیرِ آب کیمروں اور سوشل میڈیا کی ترقی سے اس کھیل کو زیادہ مقبولیت ملے گی۔ کئی کھلاڑی اگلے سال اپریل میں فرانس میں ہونے والی ایلیٹ عالمی چیمپئن شپ کی تیاری کر رہے ہیں، جس میں تقریباً 20 ممالک کی شرکت متوقع ہے، جبکہ منتظمین کا طویل مدتی خواب انڈر واٹر ہاکی کو اولمپکس میں شامل کرانا ہے۔
