Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بھارت، 636 سالہ تاریخی شاہی مسجد بی جے پی مسلم کُش پالیسی کی نذر، رات گئے شہید کرنے کی کوشش

رپورٹ کے مطابق تاریخی مسجد کو بچانے کے لیے گزشتہ دو ہفتوں سے احتجاج جاری ہے

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں 636 سالہ تاریخی شاہی مسجد کو مسمار کرنے کی کوشش کے خلاف مسلمانوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مبینہ طور پر رات گئے پولیس کی موجودگی میں شروع کی جانے والی بلڈوزر کارروائی ناکام بنا دی۔ کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق مسجد کو ہندوؤں کے مذہبی اجتماع سمہاستھا کمبھ سے قبل سڑک کی توسیع کے منصوبے کے تحت جزوی انہدام کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تاریخی مسجد کو بچانے کے لیے گزشتہ دو ہفتوں سے احتجاج جاری ہے جبکہ سینکڑوں مسلمان مسجد میں جمع ہوکر اس کے تحفظ کے لیے پہرہ دے رہے ہیں۔ مظاہرین نے مسجد کو انہدام سے بچانے کے لیے شفٹوں میں وہاں موجود رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کے ایم ایس کے مطابق سڑک کشادہ کرنے کے منصوبے کے تحت مسجد کا بڑا حصہ، مرکزی ہال اور مینار منہدم کیے جانے کا خدشہ ہے۔ مسجد کو وقف جائیداد قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث اس کے تحفظ اور قانونی حیثیت کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے مسجد کے تحفظ سے متعلق درخواستیں مسترد کردی ہیں۔

رپورٹ میں بھارتی حکومت کی مذہبی مقامات سے متعلق پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کے تاریخی اور مذہبی ورثے کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ تاہم شاہی مسجد کے انہدام کی کوشش، عدالتی کارروائی اور حکام کے مؤقف کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات کی بنیاد پر نہیں ہوسکی۔

کے ایم ایس کے مطابق حالیہ دنوں میں نئی دہلی کے شالیمار باغ میں مدینہ مسجد بھی رات کے وقت مسمار کی گئی، جبکہ سہارنپور کی 150 سالہ قدیم مسجد کو 5 ستمبر 2026 کو علی الصبح منہدم کیا گیا۔ رپورٹ میں مہرولی کی تقریباً 700 سالہ اخوندجی مسجد اور وارانسی کی تقریباً 200 سالہ ازغیب شہید مسجد کے انہدام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ تین برس کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت والی 9 ریاستوں میں 861 مساجد اور مسلم وقف املاک منہدم کی گئیں۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صرف 2025 میں 69 مسلم مذہبی مقامات مسمار کیے گئے یا غیر قانونی قرار دیے گئے۔

اعدادوشمار کے مطابق اتراکھنڈ میں 2023 سے 2026 کے دوران تقریباً 538 سے 572 مزارات کو تجاوزات کے خلاف کارروائیوں میں منہدم کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ اتر پردیش میں 37 مساجد، 225 مدارس، 25 مزارات اور 6 عیدگاہوں کے انہدام کی اطلاعات دی گئی ہیں۔ اسی طرح مہاراشٹر میں 5، گجرات میں 4، راجستھان میں 5 اور مدھیہ پردیش میں 3 مسلم مذہبی مقامات کے مسمار کیے جانے کا دعویٰ بھی رپورٹ میں شامل ہے۔

تاریخی شاہی مسجد کا معاملہ ایک بار پھر بھارت میں مذہبی مقامات کے تحفظ، شہری ترقیاتی منصوبوں، وقف املاک کے حقوق اور اقلیتوں کے مذہبی ورثے سے متعلق قانونی و سماجی سوالات کو نمایاں کرتا ہے۔ تاہم ان اعدادوشمار اور واقعات کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ بھارتی حکام کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version