دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں پائلٹس کے درمیان ہاتھا پائی کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑ گئی واقعے کے بعد اسرائیلی جنگی طیارے بھی فضا میں بھیج دیے گئے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حکام نے بتایا کہ فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 نے اردن کی فضائی حدود میں ہنگامی سگنل بھیجا، جس کے چند منٹ بعد ممکنہ غیرقانونی مداخلت کا سگنل بھی موصول ہوا، جس سے طیارے کے اغوا کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے واضح کیا کہ واقعہ طیارے کے اغوا کا نہیں تھا، جبکہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں پائلٹس کے درمیان جسمانی لڑائی ہوئی تھی، جس کے بعد ہنگامی سگنل بھیجے گئے۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ کے مطابق بوئنگ 737 طیارہ اردن کی فضائی حدود سے سعودی عرب کی جانب مڑ گیا اور تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتر گیا۔ پرواز کے دوران طیارے نے تقریباً دو منٹ میں 34 ہزار فٹ سے بلندی کم کرکے 16 ہزار 600 فٹ تک پہنچا دی تھی۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق ہنگامی سگنل موصول ہونے پر جنگی طیارے بھی روانہ کیے گئے، جبکہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی واقعے پر مشاورت کی۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے فضائیہ کے کمانڈر اور دیگر عسکری حکام کے ساتھ صورت حال کا جائزہ لیا۔
پرواز میں سوار ایک مسافر کی والدہ یاسمین ابو کاسس نے بتایا کہ ان کی بیٹی مریم کے مطابق طیارے میں چیخ و پکار سنائی دی، ایک شخص نے چاقو اٹھایا اور پائلٹ کو زمین پر گرا دیا، جبکہ ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
فلائی دبئی کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تل ابیب جانے والی پرواز کو دوران سفر پیش آنے والے ایک واقعے کے باعث تبوک منتقل کیا گیا، جہاں طیارے نے بحفاظت لینڈنگ کی۔ ترجمان کے مطابق تمام مسافر محفوظ ہیں اور ان کی گنتی مکمل کرلی گئی ہے، تاہم واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔




















