Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایران کی پوری فوجی طاقت ابھی دیکھی ہی کہاں ہے؟ محسن رضائی کا امریکا کو انتباہ

جنگ کی صورت میں انٹرنیٹ کیبلز اور اے آئی مراکز بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایرانی رہنما کا دعویٰ

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ابھی تک اپنی مکمل دفاعی اور فوجی صلاحیتوں کو استعمال نہیں کیا اور ایرانی افواج کسی بھی ممکنہ اگلے مرحلے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں ایران کے پاس مسلسل جوابی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں۔

محسن رضائی نے خبردار کیا کہ ممکنہ جنگ کی صورت میں انٹرنیٹ کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق تنصیبات بھی نشانے پر آسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کا احترام کرتا ہے اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، تاہم ان کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ ختم کرنے سے متعلق ایران کی تجویز کو التوا میں ڈال دیا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات رک گئے ہیں۔

محسن رضائی نے امریکی حکمت عملی کو سفارتی تعطل کی وجہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے پاس جنگ ختم کرنے کا کوئی واضح عملی منصوبہ نہیں ہے۔

ایرانی رہنما کے مطابق جنگ جاری رہنے کے باعث خطے میں تعلقات کی صورتحال ایران کے حق میں تبدیل ہوئی ہے اور خلیجی ممالک امریکا کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات پر نظرثانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک کو اپنے فوجی اڈوں کے دفاع کے لیے امریکی فوج کی صلاحیت پر تحفظات ہیں اور امریکی فوج اپنے اڈوں کا مؤثر دفاع کرنے کے قابل نہیں ہے۔ تاہم یہ دعوے محسن رضائی کے مؤقف پر مبنی ہیں، ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔

Exit mobile version