اسرائیل میں انتخابات سے قبل ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے معاملے پر وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور فوجی سربراہ ایال زامیر کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آگئی ہیں، تاہم اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر دفاع نے ان اطلاعات کی تردید کردی ہے۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فوجی سربراہ ایال زامیر نے ایران کے خلاف مجوزہ کارروائی پر تفصیلی بحث اور سیاسی قیادت کی جانب سے باضابطہ قانونی منظوری دینے پر زور دیا تھا۔ تاہم مجوزہ آپریشن کی نوعیت اور تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
رپورٹ میں سیکیورٹی حکام کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ براہِ راست تصادم کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ اسرائیل میں انتخابات سے قبل فوجی کارروائی کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا گیا۔
دوسری جانب وزیراعظم نیتن یاہو نے فوجی سربراہ سے اختلافات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی پیر کو ان اطلاعات کو مکمل طور پر غلط قرار دیا اور کہا کہ سیاسی قیادت اور اسرائیلی فوج کے درمیان ایران کے معاملے پر مکمل ہم آہنگی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کا انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائیر لاپڈ نے ان اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ انتخابات ملتوی کرانے کے لیے ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کو اقتدار سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔
نیتن یاہو انتخابی مہم میں اپنی سیکیورٹی پالیسی اور ایران کے خلاف اقدامات کو نمایاں کرتے رہے ہیں، تاہم فوجی کارروائی سے متعلق اختلافات کی خبروں کی سرکاری سطح پر تردید کے باعث صورتحال تاحال غیر واضح ہے۔



















