مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔
اجلاس کی صدارت خواجہ سعد رفیق نے کی اور کہا کہ حمزہ شہباز سرگرم نہیں تھے جس کی وجہ سے ن لیگ کو پنجاب میں مشکلات کا سامنا رہا ہے لیکن عمران خان ہم سے اچھی سیاست کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ حمزہ شہباز کو کہیں کہ پنجاب میں تگڑی اپوزیشن کریں کیونکہ اگر اب جگہ نہیں ملی تو پنجاب میں ہمیں پاؤں رکھنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں تبدیلی ضرور ہوگی، خواجہ آصف کا دعویٰ
انہوں نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہمیں پنجاب چار پانچ ماہ کے لیے مل گیا تو بہت کچھ کرینگے جبکہ ارکان پنجاب اسمبلی کے مسائل حل کرنے کے لیے اسٹیٹ گیسٹ ہاوس تیار کروا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کے نمائندے اسٹیٹ گیسٹ ہاوس میں بیٹھیں گے جو ارکان کے جائز کام کروائیں گے۔
خیال رہے کہ اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی اور اتحادی آزاد اراکین سمیت وفاقی وزرا رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، اعظم نذیر تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء اللہ تارڑ بھی شریک ہوئے تاہم خواجہ آصف سرکاری و نجی مصروفیات کے باعث اجلاس میں شرکت کے بعد جلدی واپس روانہ ہو گئے۔
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاورشیئرنگ فارمولے کاکوئی علم نہیں پے لیکن پرویزالٰہی ہمارے قریب آئیں اللہ وہ نوبت نہ لائے۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اسمبلی کے اندرہمارے بے شماربندے موجود ہیں جس کے تحت پنجاب میں تبدیلی ضرور ہوگی کیونکہ عمران خان کے مبینہ ڈاکو کو فارغ تو ہونا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا اپوزیشن کے ہر غیرآئینی ہتھکنڈے کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ
خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کی اصلیت سامنے آنے پر لوگ مایوس ہورہے ہیں، وہ لوگ اپنے لیے نئی پارٹیاں، نئی پناہ گاہیں ڈھونڈ رہے ہیں کیونکہ جب کسی پارٹی کی مقبولیت کا گراف گرتا ہے تو لوگ نئی پارٹیوں میں جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو پارٹی کا آرگنائزر لگانا اچھی بات ہے تاہم نواز شریف کی واپسی کسی چیز سے مشروط نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ آئندہ انتخابات اہنے مقررہ وقت پر ہی ہونگے۔
پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم:
پنجاب میں اپوزیشن اتحاد کی کل تعداد 178 ہے جس میں ن لیگ کے ارکان کی تعداد 167 جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 7 ہے ۔
اسکے علاوہ پنجاب میں اپوزیشن اتحاد کو 4 آزاد ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے ایوان میں 180 ارکان ہیں اور انہیں ق لیگ کے 10 ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے جس کے بعد حکومت کی حکومتی اتحاد کو 190 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
خیال رہے کہ وزیرعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے 186 ارکان کے ووٹ درکار ہیں۔



















