Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نائن الیون سانحہ کے 25 سال بعد بھی دنیا کا ایک ہی سوال، انٹیلی جنس کہاں ناکام ہوئی؟

حملوں کے بعد امریکا نے انٹیلی جنس نظام میں بڑی تبدیلیاں کیں

امریکا پر 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کو 25 برس مکمل ہونے کے باوجود دنیا کی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ایجنسیاں اس تباہ کن واقعے سے ملنے والے اسباق سیکھنے کے عمل میں ہیں۔ حملوں میں 2,977 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اس واقعے نے اگلی دو دہائیوں کی عالمی خارجہ، دفاعی اور انسدادِ دہشت گردی پالیسیوں کا رخ بدل دیا۔

نائن الیون اچانک رونما نہیں ہوا تھا۔ امریکی سی آئی اے کئی برس سے القاعدہ اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کے بارے میں معلومات رکھتی تھی حتیٰ کہ اسے تلاش کرنے کے لیے خصوصی ٹاسک فورس بھی قائم تھی۔ بعد کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ سی آئی اے اور ایف بی آئی کے پاس ایسی معلومات موجود تھیں جو مناسب انداز میں ایک دوسرے سے شیئر کی جاتیں تو حملوں کو روکنے کا امکان پیدا ہوسکتا تھا۔

نائن الیون کمیشن نے امریکی حکومت کی ناکامی کو ’’تصور، پالیسی، صلاحیت اور انتظامی خامیوں‘‘ سے جوڑا۔ رپورٹ کے مطابق اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور دستیاب انٹیلی جنس کا درست تجزیہ نہ ہونا بڑی خامیوں میں شامل تھا۔

حملوں کے بعد امریکا نے انٹیلی جنس نظام میں بڑی تبدیلیاں کیں۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر اور ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جیسے ادارے قائم کیے گئے تاکہ مختلف ایجنسیوں کے درمیان معلومات کا تبادلہ بہتر بنایا جاسکے۔ امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان فائیو آئیز انٹیلی جنس اتحاد بھی عالمی تعاون کا اہم ستون بن گیا۔

برطانیہ میں بھی انٹیلی جنس اور پولیس کے درمیان تعاون کو مضبوط کیا گیا، جبکہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے مشترکہ مراکز قائم ہوئے جہاں انٹیلی جنس افسران اور پولیس ایک ہی نظام کے تحت ممکنہ خطرات سے نمٹنے پر کام کرتے ہیں۔

تاہم نائن الیون کے بعد بھی انٹیلی جنس کی ناکامیاں ختم نہیں ہوئیں۔ 2003 میں عراق پر امریکی قیادت میں حملے سے قبل عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں  کی موجودگی سے متعلق برطانوی انٹیلی جنس بعد میں ناقص ثابت ہوئی۔ بٹلر ریویو نے بھی برطانیہ کی انٹیلی جنس کو سنگین خامیوں اور غیرمصدقہ ذرائع پر حد سے زیادہ انحصار کا شکار قرار دیا۔

اسی طرح برطانیہ 2005 کے 7/7 لندن بم دھماکوں کو روکنے میں ناکام رہا، حالانکہ حملے کے مرکزی کردار محمد صدیق خان کے بارے میں سیکیورٹی اداروں کے پاس معلومات موجود تھیں۔ 2017 کا مانچسٹر ایرینا حملہ بھی انٹیلی جنس ترجیحات کے حوالے سے ایک بڑی ناکامی کے طور پر سامنے آیا۔

ماہرین کے مطابق آج دہشت گردی اب بھی خطرہ ہے، تاہم سیکیورٹی ترجیحات تبدیل ہوچکی ہیں۔ القاعدہ اور دیگر غیر ریاستی عناصر کے ساتھ ساتھ روس، ایران، اس کے اتحادی گروہوں اور چین سے وابستہ ریاستی خطرات بھی مغربی انٹیلی جنس اداروں کے لیے اہم چیلنج بن چکے ہیں۔

نائن الیون کے بعد انسانی حقوق کا سوال

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ابتدائی برسوں میں امریکا اور اس کے اتحادیوں پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات بھی لگے۔ افغانستان اور پاکستان سے گرفتار کیے گئے متعدد افراد کو بغیر باقاعدہ مقدمے کے گوانتاناموبے منتقل کیا گیا، جہاں کئی افراد طویل عرصے تک قید رہے۔

عراق اور افغانستان میں قیدیوں سے بدسلوکی کے واقعات بھی سامنے آئے، جبکہ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 پر لیبیا کے ایک اسلام پسند رہنما عبدالحکیم بلحاج اور ان کی اہلیہ کی تھائی لینڈ سے لیبیا منتقلی میں معاونت کا الزام ثابت ہونے کے بعد برطانوی حکومت نے 2018 میں پارلیمنٹ میں باضابطہ معذرت کی۔

نائن الیون نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ صرف معلومات کا دستیاب ہونا کافی نہیں؛ اصل چیلنج صحیح وقت پر مختلف معلومات کو جوڑنا، خطرے کا درست اندازہ لگانا اور بروقت فیصلہ کرنا ہے۔ یہی وہ سبق ہے جسے عالمی انٹیلی جنس ادارے آج بھی دہرانے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں