Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جو کہہ رہے ہیں عمران خان پر ریڈلائن لگادی، انہیں ریڈلائن مٹاکردکھاؤں گا، سابق وزیراعظم 

سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے کہ عمران خان پر ریڈ لائن لگادی ہے لیکن میں جب بھی نکلوں گا ریڈ لائن مٹا کردکھاؤں گا۔

پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے اہم خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ 16 اکتوبرکوالیکشن کمیشن نے چن کر کمزور حلقوں میں الیکشن کرائے اور عوام نے ہمیں یہ جانتے ہوئے ووٹ دیئے کہ ہم نے اسمبلی میں نہیں بیٹھنا تھا، کوشش ہورہی تھی قوم کسی طرح چوروں کو قبول کرلے۔

عمران خان نے کہا کہ 30 سال سے اس ملک پر چور مسلط رہے جس کی وجہ سے پاکستان ہر شعبے میں پیچھے رہ گیا ، ان کو ایک کام آتا تھا،پیسہ چوری کرنا اور این آر اولینا ، ان کو ہم پر مسلط کیا گیا اور ان کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں تھا ، انہوں نے این آر او لیا،آتے ہی کرپشن کیسز ختم کیے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے کہ عمران خان پر ریڈ لائن لگادی ، ریڈ لائن پاکستان کے عوام ڈال سکتے ہیں اور کوئی نہیں، ریڈ لائن ڈالنے والوں میں عقل نہیں، انہیں سیاست کی سمجھ نہیں ، عوام فیصلہ کرتے ہیں کس پر ریڈ لائن ڈالی جائے کس پر نہیں۔

یہ بھی پڑھیں؛ الیکشن کمیشن عمران خان کے معاملے پر جانب دار ہے 

سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ کہتے ہیں ریڈ لائن ڈرا کی ہوئی ہے ، میں جب بھی نکلوں گا ریڈ لائن مٹا کردکھاؤں گا ، کوئی کسی پر ریڈ لائن ڈرا نہیں کرسکتا ، کوشش ہوگی اپنی 2  اسمبلیاں قربان کرکے الیکشن کروائیں ، قوم کا مزاج جانتا ہوں، بھاری اکثریت سے اقتدار میں آئیں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن کا سال ہے، ہم نے الیکشن فوری کروانا ہے، ہمیں پتا ہے کس کے خیال میں تھا شہباز شریف بڑا عقلمند ہے، ہم آزاد خارجہ پالیسی لارہے تھے،کئی لوگوں کو پسند نہیں آیا ، غلام ذہین کے لوگوں کو خودداری کا نہیں پتا ، ان کی کوشش ہے بھیک مانگیں تھوڑا سا پیسا آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں؛ آج معیشت نہ سنبھلی تو کل اس کا نقصان ریاست کو ہوگا، عمران خان

انہوں نے کہا کہ 26 نومبر کو بڑی تعداد میں لوگ پنڈی میں تھے، لاکھوں لوگ اسلام آباد جاتے تو کوئی نہیں روک سکتا تھا ، انتشار روکنے کیلئے ہم نے آئینی حق استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ، ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے کہ ہم 2 اسمبلیوں میں الیکشن نہ کروادیں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو لوگ کہتے ہیں ہم جمہوری ہیں تو پھر وہ الیکشن سے کیوں ڈرتے ہیں ، دراصل یہ عوام سے ڈرتے ہیں،انہیں پتا ہے ہار جائیں گے ، اسلام آباد الیکشن سے 2 دن پہلے انہوں نے ہرحربہ استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ آصف زرداری عوام میں نہیں نکل سکتے ، آصف زرداری کے اپنے لوگ انکی تصویر نہیں لگاتے ، آصف زرداری چوری کے پیسے سے لوگوں کےضمیر خریدتاہے ، آصف زرداری خریدو فروخت کیلئے چکر لگانے آ یا تھا، ضمیر خریدنے کیلئے سوا ارب روپے 5 لوگوں کو آفر کیے گئے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اپنے ارکان اسمبلی پر فخر ہے، جنہوں نے آصف زرداری کو مسترد کیا ، آصف زرداری کا شکریہ ادا کرنا چاہیے گندے انڈوں کو فارغ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ایسی تنقید ہو جس سے عدلیہ ناراض ہو ، چاہتے ہیں ملک میں عدلیہ مضبوط ہو لیکن انصاف کے اداروں سے پوچھتا ہوں ہمیں کون تحفظ دے گا ، کسی کو ملک میں اعتماد نہیں کہ انصاف ملےگا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اعظم سواتی ،شہباز گل،جمیل فاروقی،ارشد شریف پر تشدد ہوا ، اعظم سواتی کو قوم کی طرف سے سلام پیش کرتا ہوں ، ق لیگ پردباؤ ڈالنے کیلئے فاران کو اٹھا یاگیا ، فاران زخمی حالت میں عدالت گیا، کچھ بول نہیں سکا ، فاران کو ڈر تھا انہیں تحفظ نہیں ملے گا، خوف سے کچھ نہیں بولا۔

انہوں نے کہا کہ جلسوں میں بتایا دینی انتہا پسند کے نام پر واردات ہوگی ، اپنے جلسوں میں پلان سے متعلق بتایا،اسی اسکرپٹ پر عمل ہوا ، حملے کا مقدمہ درج کروانا میرا حق ہے ، مجھے پتا تھا،جانتا تھا وہ 3 لوگ کون تھے ، میں سیاست نہیں حقیقی آزادی کیلئے جہاد کررہا ہوں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام مہنگائی میں پیس گئے، بے روزگاری بڑھ گئی ، جیسے ہی ٹانگ ٹھیک ہوگی پھر سڑکوں پر ہوں گا، قربانی کے بغیر آزادی نہیں ملتی ، چور اور جرائم پیشہ لوگ جس قوم پر مسلط ہوں وہ تباہ ہو جاتا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ہم پر جہاد فرض ہے، ناانصافی اور ظلم کے خلاف کھڑے ہوں ، جرائم پیشہ لوگوں کےسامنے کھڑے ہونا سب کا فرض ہے ، ان چوروں کو قبول کیاتو سمجھ لیں ملک کاڈیتھ وارنٹ سائن کرلیا ، آج پاکستان کے لوگ امید چھوڑ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگ دیکھ رہے ہیں کیا تحریک انصاف چوروں کا مقابلہ کرےگی ، جن لوگوں کی معاشرے میں ضرورت ہے وہ ملک چھوڑگئے ، چند ماہ میں ساڑھے7 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر چلےگئے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ ڈرائیں گے، دھمکائیں گے، پیسے دیں گے،یہ آپ کا امتحان ہے ، آنے والے ایک دو دن میں فیصلہ ہوگا،ہم سب کامیاب ہوں گے، ہمارا وکٹری ٹارگٹ زیادہ دور نہیں ۔

متعلقہ خبریں