خواتین کے رحم میں مختلف وجوہات کی بنا پر اکثر رسولیاں بننے لگتی ہیں جو خطرناک تو نہیں ہوتی تاہم یہ ان کی وجہ سے صحت ضرور متاثر ہوتی ہے۔
یہ رسولیاں رحم یعنی بچہ دانی میں یا اس کے آس پاس نشوونما پاتی ہیں۔ جو پٹھوں اور ریشے داربافتوں سی بنی ہوئی ہوتی ہیں یہ مختلف سائز میں نمو پاتی ہیں اکثر خواتین کوعلم ہی نہیں ہوتا کہ ان میں فائبرائڈزموجود ہیں کیونکہ بہت سی خواتین میں ان کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔
یہ خواتین میں ماں بننے کے کچھ سالوں بعد ظاہر ہوتی ہیں اور کبھی بھی کسی موذی مرض کا سبب نہیں بنتی۔ تاہم اس کی موجودگی کی وجہ سے یوٹرس یعنی رحم کا سائز بڑھ جاتا ہے اور اس طرح یہ خواتین کے وزن کو بھی بڑھا سکتاہے۔ اس کی تشخیص الٹراساؤنڈ کی مدد سے کی جاسکتی ہے۔
خوش قسمتی سے فائبرائڈزکا علاج بہت ہی آسانی سے کیا جاسکتا ہے تاہم فائبرائڈز کے سائز کو کم کرنے اور علامات کو دور کرنے کے لیے کچھ قدرتی طریقے بھی ہیں یہاں پر ان ہی تین آزمودہ طریقوں کو پیش کیا جارہارہا ہے جو اس ضمن میں مفید ثابت ہوں سکتے ہیں۔
سورج کی روشنی میں وقت گزاریں
جریدے ایپیڈیمولوجی میں جانوروں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ روزانہ 10 منٹ تک باہر جانے اور سورج کی روشنی میں وقت گزارنے سے فائبرائڈز کے سائز کو 75 فیصد تک کم کیاجاسکتا ہے۔ وجہ؟ سورج کی نمائش جسم کو وٹامن ڈی تھری بنانے میں مدد کرتی ہے، یہ ایک غذائیت ہے جو خلیوں کی غیر معمولی نشوونما کو روکنے کے لیے معاون ثابت ہوتی ہے۔ اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو اس کے لیے اس وٹامن کے سپلیمنٹس بھی لیے جاسکتے ہیں۔
سبز چائے
سبز چائے ای جی سی جی سے بھرپورہوتی ہے یہ ایک ایسا مرکب ہے جو فائبرائڈز کو ایک تہائی تک چھوٹا کرسکتا ہے اس کا روزانہ استعمال علامات کی شدت کو 37 فیصد تک کم کرنے میں مددفراہم کرتا ہے۔
انٹرنیشنل جرنل آف وومنز ہیلتھ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ای جی سی جی فائبرائڈ سیلز کی نشوونما کو روک اسے ختم کردیتا ہے۔
غذا میں تبدیلی
فائبرائڈز سے نجات حاصل کرنے کے لیے غذائی عادات میں تبدیلی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سرخ گوشت کو کم کیا جائے جو فائبرائڈ کو متحرک کرنے والے ایسٹروجن کی سطح کو بڑھا سکتا ہے، اور دن میں تین سے پانچ بار سبزیوں کا استعمال کریں۔ وہ فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں، جو جسم سے خارج ہونے کے لیے اضافی ایسٹروجن سے منسلک ہوتی ہیں۔ تاہم بروکلی اور کیلے کو کھانے سے گریز کیاجائے کیونکہ یہ دونوں ایسٹروجن کی پیداوار کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔




















