Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کیا آپ کے بال تیزی سے جھڑ رہے ہیں؟ جوڑوں کے درد کی دوا سے حیران کن نتائج

جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے بالوں کی جڑوں کو نشانہ بناتا ہے جس کے نتیجے میں سر کے بال بڑی مقدار میں جھڑ جاتے ہیں۔

سائنس دان بالوں کے شدید جھڑنے کی بیماری میں مبتلا افراد کے لیے ایک دوا کے حوصلہ افزا نتائج سامنے لے آئے ہیں جس سے بعض مریضوں کے سر کے تمام بال دوبارہ نکل آئے۔

بالوں کے شدید جھڑنے کی بیماری میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے بالوں کی جڑوں کو نشانہ بناتا ہے جس کے نتیجے میں سر کے بال بڑی مقدار میں جھڑ جاتے ہیں۔

اس بیماری میں بالوں کی جڑیں مستقل طور پر تباہ نہیں ہوتیں تاہم اصل چیلنج مدافعتی نظام کے اس حملے کو روکنا ہوتا ہے۔ خاص طور پر کم عمر افراد کے لیے اس بیماری کے مؤثر علاج کے محدود راستے موجود ہیں۔

نئی تحقیق میں جوڑوں کے درد اور جسمانی سوزش کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا کا بالوں کے شدید جھڑنے کے مریضوں پر جائزہ لیا گیا۔ دو الگ مگر ایک ساتھ کیے گئے طبی تجربات میں 12 سے 64 سال کی عمر کے مجموعی طور پر ایک ہزار 399 افراد شریک ہوئے۔

تمام شرکا کے سر کے کم از کم نصف بال جھڑ چکے تھے۔ انہیں 24 ہفتوں تک روزانہ مختلف مقدار میں دوا یا بے اثر گولی دی گئی۔

تحقیق کے دوران ایسے مریضوں کو کامیاب علاج میں شمار کیا گیا جن کے سر پر کم از کم 80 فیصد بال واپس آگئے۔ زیادہ مقدار والی دوا لینے والے مریضوں میں دونوں تجربات کے دوران تقریباً 54 اور 55 فیصد افراد یہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

کم مقدار لینے والے مریضوں میں یہ شرح تقریباً 45 فیصد رہی جب کہ بے اثر گولی لینے والوں میں یہ شرح صرف ڈیڑھ سے ساڑھے تین فیصد کے درمیان تھی۔

تحقیق کے مطابق دوا کا اثر علاج شروع ہونے کے صرف آٹھ ہفتوں بعد نمایاں ہونا شروع ہوگیا۔ مزید یہ کہ مختلف گروہوں میں 13 سے 22.5 فیصد افراد کے سر کے تمام بال دوبارہ اگ آئے۔

محققین کے مطابق علاج سے مریضوں کے معیارِ زندگی اور بیماری کے باعث پیدا ہونے والے ذہنی و جذباتی دباؤ میں بھی بہتری دیکھی گئی۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تجربات صرف 24 ہفتوں تک جاری رہے، اس لیے دوا کے طویل مدتی اثرات اور ممکنہ خطرات کے بارے میں مزید تحقیق ضروری ہے۔

تحقیق کے اخراجات دوا بنانے والی کمپنی نے فراہم کیے تھے اور بعض محققین بھی اسی کمپنی سے وابستہ ہیں، اس لیے ماہرین کے مطابق موجودہ علاج کے مقابلے میں مزید تجربات کے بعد ہی دوا کی افادیت کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جاسکے گا۔