پاکستان دشمنی میں مودی سرکار طے شدہ امور بھی متنازعہ کرنے پر اتر آئی ہے، سندھ طاس معاہدے کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے دہائیوں قبل ہونے والے سندھ طاس معاہدے میں ترمیم کے لیے پاکستان کو نوٹس دے دیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے میں ترمیم کے لیے نوٹس بھارت نے 25 جنوری کو سندھ طاس کمشنرز کے حوالے کیا۔
مزید پڑھیں: بھارت کی ایک مرتبہ پھر سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی
رپورٹ کے مطابق بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کی ضد معاہدے پر عملدرآمد میں رکاوٹ ہے، پاکستان کے اقدامات سے معاہدے پر عملدرآمد میں رکاوٹ سامنے آ رہی ہے۔
نوٹس سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 12 کی شق 3 کے تحت بھجوایا گیا ہے۔
معاہدے کے تحت دونوں حکومتوں کے درمیان وقتا فوقتا توثیق شدہ ٹریٹی کے ذریعے ترامیم ممکن ہیں۔
پاکستان کی جانب سے بھارت کی خلاف ورزیوں کا معاملہ ثالثی عدالت میں لے جانے پر مودی سرکار سیخ پا ہے۔
بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے موجود میکنزم کی پاکستان نے خلاف ورزی کی ہے۔بھارت نے بھی اپنی جانب سے غیرجانبدار ماہر کے تقرر کی درخواست عالمی بینک کو بھیج دی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے مسائل حل کیوں نہیں ہوتے؟
پاکستان کے اسرار پر عالمی بینک نے غیر جانبدار ماہر اور ثالثی کا عمل بیک وقت شروع کیا۔
بھارت نے موقف اپنایا کہ بیک وقت غیر جانبدار ماہر کی تقرری اور ثالثی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ 9 برس طویل مذاکرات کے بعد پاکستان اور بھارت نے 1960 میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
پاکستان کی جانب سے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے کراچی میں معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ عالمی بینک سندھ طاس معاہدے میں ضامن ہے۔



















