عدالت نے بجلی بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کے خلاف درخواستوں کا فیصلہ سنا دیا-
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی وصولی کو کالعدم قرار دے دیا۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ایک ہی نوعیت کی 3 ہزار 659 درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا۔
شہری منیر احمد کے وکیل اظہر صدیق سمیت سینکڑوں درخواست گزاروں کے وکلاء نے دلائل دئیے، عدالت نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر 10 اکتوبر2022 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا اور اب 85 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا۔
فیصلے میں عدالت نے نیپرا کو وصول کی گئی اضافی رقم صارفین کو واپس کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ نیپرا ذمہ داروں کا تعین کرے اور متبادل ذرائع سے سستی بجلی حاصل کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں؛ تین سال کے دوران پانچواں بڑا بریک ڈاؤن
درخواست گزاروں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ نیپرا کی اتھارٹی مکمل نہیں لہذا ان کی جانب سے فیصلے غیر قانونی ہیں، نیپرا اپنے رولز کی واضع خلاف وزری کررہا ہے، نیپرا نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں شہریوں سے غیر قانونی طور پر اربوں روپے ہتھیائے ہیں۔
وفاقی حکومت کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ نیپرا نے اگر قیمتیں بڑھانی ہیں تو پہلے اپنی اتھارٹی کو مکمل کرے، وفاق کا بجلی کی قیمتوں کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔
وکیل وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ حکومت نے قیمتوں اور دیگر بجلی کے معاملات کے لیے نیپرا کا ادارہ قائم کررکھا ہے، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست نیپرا سے تعلق ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے کوارٹر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی وصولی بھی غیر قانونی قرار دے دی جب کہ صارفین کو سُنے بغیر ٹیرف کی تبدیلی کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے گھریلو صارفین کو 500 یونٹ تک سبسڈی دینے کی ہدایت دی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے سولر سمیت دیگر ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ نیپرا اوور چارجنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔



















