پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات کسی طور پر قانونی نہیں۔
تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں مسائل ہیں، 12فروری کوفوراہ چوک پردھرنا دیں گے۔
الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت ہماری بات نہیں سن رہی
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کیلئے خط لکھا، سندھ حکومت 53 یوسیز شہر میں شامل کرے، اب کراچی کی ہار کو جیت میں بدلیں گے، الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت ہماری بات نہیں سن رہی۔
الیکشن کمیشن نے سندھ حکومت کا حکم نہ مان کر غیر قانونی کام کیا
ان کا کہنا تھا کہ 53یوسیز کو دوبارہ نوٹیفائی کرنےکی ضرورت ہے، ہمارا موقف ہے کہ شہر میں 53یوسیز کم ہیں، الیکشن کمیشن نے سندھ حکومت کا حکم نہ مان کر غیر قانونی کام کیا، کراچی کےبلدیاتی انتخابات قانونی نہیں تھے۔
پیپلز پارٹی کوٹے پر بھی کوٹا نہیں دے رہی
انہوں نے کہا کہ الیکشن لڑنے والی جماعتوں نے کراچی کے ساتھ بددیانتی کی، 12فروری کا دھرنا پیپلز پارٹی کے معاہدے کیلئے ہے، پیپلز پارٹی کوٹے پر بھی کوٹا نہیں دے رہی، جعلی ڈومیسائل بنا کر شہر میں نوکریاں دی جا رہی ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 40 سال میں صرف خون اور آگ کی ہولی کھیلی گئی، کراچی کے حالات اب پہلے سے زیادہ خراب ہو چکے ہیں۔



















