Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ترک زلزلہ متاثرین کی مدد کیلئے گئی پاکستانی ریسکیو ٹیم واپس پہنچ گئی

لاہور: ترک زلزلہ متاثرین کی مدد کیلئے گئی پاکستان کی ریسکیو ٹیم واپس پہنچ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 47 رکنی الخدمت فاؤنڈیشن ریسکیو ٹیم علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور پر پہنچی جہاں ترک قونصل جنرل امیر اوزبے نے ریسکیو ٹیم کا استقبال کیا۔

اس موقع پر ترک قونصل جنرل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ زلزلہ میں خدمات پیش کرنے پر پاکستان کے مشکور ہیں۔

امیر اوزبے نے مزید کہا کہ پاکستان نے فوری رسپانس دے کر ترک عوام کے دل جیت لئے ہیں، الخدمت فاؤنڈیشن کی ٹیم نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

دوسری جانب لاہور منیجر عمر اوندر نے کہا کہ زلزلے کے بعد ترکش ائیر لائن کا اسپیشل فلائٹ آپریشن شروع کیا، الخدمت فاؤنڈیشن کی ٹیم جدید آلات سے آراستہ تھی۔

فواد شیروانی کا کہنا تھا کہ الخدمت ریسکیو ٹیم نے 6 افراد کو ملبہ سے زندہ نکالے۔

علاوہ ازیں اکرام سبحانی ریسکیو نے مزید کہا کہ ہماری ریسکیو ٹیم نے 56 میتوں کو ملبے سے نکالا۔

واضح رہے کہ 47 رکنی الخدمت فاؤنڈیشن ریسکیو ٹیم نے 13 دن امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا۔

خیال رہے کہ 6 فروری کوترکیہ کے جنوب مشرقی اور ہمسایہ ملک شام میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا جس میں 45,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی اربوں ڈالر کی اقتصادی لاگت متوقع ہے۔

زلزلے کے باعث شام میں، 5,800 سے زیادہ اموات کی اطلاع ملی جو کہ زیادہ تر شمال مغرب کے علاقے میں ہوئی ہیں جبکہ کئی دنوں سے اموات کے اعداد و شمار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا اندازہ ہے کہ ترکیہ اور شام دونوں ممالک میں تقریباً 26 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

ترکیہ میں زلزلے سے بچاؤ کی کارروائیاں ختم کرنے کا فیصلہ

چبند روز قبل ترکیہ کے ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر امدادی کارروائیاں اتوار کی شام کو ختم ہو جائیں گی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکیہ کے اے ایف اے ڈی کا کہنا تھا کہ ترکیہ اور شام میں اس ماہ کے آغاز میں آنے والے ہولناک اور تباہ کن زلزلے کے تقریباً دو ہفتے بعد بیشتر صوبوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں ختم ہو گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی ادارہ خوراک کی شام اور ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کیلئے امداد کی اپیل

اس سے قبل اے ایف اے ڈی کے سربراہ یونس سیزر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ “زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 40,642 ہو گئی ہے اور ملبے تلے دبے لوگوں کی تلاش اور بچاؤ کا کام بیشتر صوبوں میں ختم ہو گیا ہے۔

یونس سیزر نے مزید کہا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم کل رات تک تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں ختم کر دیں گے۔

اے ایف اے ڈی کے سربراہ یونس سیزر کا کہنا تھا کہ ہم شاید تاریخ کی سب سے بڑی تباہی کے سامنے ہیں،  زلزلوں اور آفٹر شاکس سے ہونے والا نقصان غیر معمولی ہے جو صرف متاثرہ 11 صوبوں تک ہی محدود نہیں تھا۔

متعلقہ خبریں