Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

انتخابات کی تاریخ، صدر کے اعلان پر وزیراعظم کی آئینی و قانونی ماہرین سے مشاورت

صدر مملکت کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کی تاریخ دینے کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی آئینی و قانونی ماہرین سے مشاورت جاری ہے۔

اس حوالے سے حکومتی ذرائع نے بتایا کہ آئینی ماہرین نے بریفنگ دی کہ صدر صرف قومی اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ دے سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق صدر نے تاریخ دے کر اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔ گورنرز صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ دینے کے مجاز ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر نے جس آرٹیکل کا حوالہ دیا وہ قومی اسمبلی کے انتخابات سے متعلق ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حکومت کا صدر مملکت کی جانب سے الیکشن کی تاریخ دینے کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت اس معاملے پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد مشاورتی اجلاس میں لائحہ عمل اختیار کرے گی۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی اس معاملے پر اتحادیوں سے بھی مشاورت جاری ہے۔

ن لیگ کا مشاورتی اجلاس آج طلب

دسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان مسلم لیگ ن کا مشاورتی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس آج شام وزیر اعظم ہاؤس میں ہوگا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں صدر کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے الیکشن کی تاریخوں کے اعلان پر غور ہوگا اور مسلم لیگ ن آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کرے گی۔

اس کے علاوہ اجلاس میں آئینی و قانونی پہلوؤں، آپشنز اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اجلاس میں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شرکت کریں گے۔

صدر مملکت کا پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان

 صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ دے دی گئی ہے۔

صدر مملکت نے گزشتہ روز الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 57 ایک کے تحت 9 اپریل بروز اتوار پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کیلئے انتخابات کا اعلان کردیا تھا۔

اس حوالے سے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ایکٹ کے سیکشن 57 دو کے تحت الیکشن کا پروگرام جاری کرے، آئین کے تحت آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف لیا ہے، چونکہ کسی بھی عدالتی فورم کی جانب سے کوئی حکم امتناع نہیں، لہٰذا سیکشن 57 ایک کے تحت صدر اختیار کے استعمال میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئین اور قانون 90 دن سے زائد کی تاخیر کی اجازت نہیں دیتا  ہے تاہم آئین کی خلاف ورزی سے بچنے کیلئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اپنا آئینی اور قانونی فرض ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

متعلقہ خبریں