Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بار کھان واقعہ؛ لواحقین کا لاشوں کے ہمراہ دھرنا، مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی

وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے سامنے لاشوں کے ہمراہ دھرنے کو 27 گھنٹے مکمل ہوگئے تاہم مذاکرات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

تفصیلات کے مطابق بارکھان واقعے سے متعلق کیس کو کرائم برانچ کو منتقل کردیا گیا، دیگر مغوی بچوں کی بازیابی کیلئے پولیس کا سی ٹی ڈی کے ہمراہ ضلع بارکھان میں صوبائی وزیرسردار عبدالرحمن کے آبائی گاوں حاجی میں چھاپہ دو افراد کو گرفتار کرلیاگیا۔

بلوچستان پولیس کا موقف ہے کہ سردارکیتھران کی گرفتاری کیلئے نہیں بلکہ مغوی بچوں کی بازیابی کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

اس سے قبل صوبائی حکومت نے بارکھان واقعہ کی تحقیقات کیلئے ڈی آئی جی لورالائی کی سربراہی میں 5 رکنی انکوائری کمیٹی بھی بنادی گئی ہے۔

دوسری جانب سینیٹر آغا عمر احمدزئی کی سربراہی میں ہونے والے قبائلی جرگے نے حکومت کو دو روز کی مہلت دیتے ہوئے بارکھان سانحہ پر حکومتی اقدامات کومذاق قراردیا۔

یہ بھی پڑھیں؛ برطرف صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران گرفتار

آغاعمر احمدزئی نے میڈیا کو بتایاکہ اگر دوروز میں مغوی بچوں کی بازیابی اور معاملے کا فوری نوٹس نہ لینے کی صورت میں بلوچستان کے تمام قبائل کوئٹہ میں اکٹھے ہوکر دھرنا شرکاء کے احتجاج کا حصہ بن جائیں گے۔

ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس مغویوں کی بازیابی کیلئے سردار عبدالرحمن کی دیگر خفیہ رہائشگاہوں پر بھی چھاپے مار رہی ہے،سانحہ بارکھان کا کیس کرائمز برانچ کو منتقل کردیاگیا ہے۔

پولیس ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری سلمان چوہدری کی سربراہی میں خصوصی تحقیقات ٹیم تشکیل دے گئی ہے،ڈی آئی جی کوئٹہ،ڈی آئی جی اسپیشل برانچ،ایس ایس پی انویسٹی گیشن کوئٹہ ٹیم میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پولیس نے بارکھان میں خاتون اور اس کے 2 بیٹوں کے قتل کے الزام میں بلوچستان کے برطرف وزیر مواصلات سردار عبدالرحمان کھیتران کو گرفتار کرلیا گیا۔

متعلقہ خبریں