فی زمانہ پروسس شدہ غذا کی اصطلاح کافی مقبولیت حاصل کررہی ہے جسے دنیا بھرمیں استعمال کیاجاتا ہے، پروسس شدہ غذا کا مطلب یہ ہے کہ عام کھانے پینے کی غذاؤں کو ایک خاص پروسس کے تحت ان کے ذائقے کو بہتربنایا جاتا ہے۔ ان ہی میں کیچپ بھی شامل ہے۔
کیچپ کا شمار دنیا کی اس ساس میں ہوتا ہے جسے کثرت سے استعمال کیاجاتا ہے، بچے ہو یا بڑے ٹماٹر کی چٹنی جسے کیچپ کہاجاتا ہے بے حد شوق سے کھاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیچپ کھانے کے ان نقصانات کو ذہن میں رکھیں
میگی ہو یا پیزا سموسہ ہویا پراٹھا غرض کہ کیچپ کے بنا ہر دسترخوان خالی محسوس ہوتا ہے۔ جبکہ فاسٹ فوڈ تو اس کے بغیر ادھورا سا محسوس ہوتا ہے، ٹماٹو کیچپ کو پاستا، پیزا، ٹوسٹ، بریڈ، لیٹش، فرنچ فرائز، فرائیڈ چکن اور ہیمبرگر سمیت پکوانوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں انتی کثرت سے کھائی جانے والی یہ کیچپ پروسس شدہ غذاؤں میں شامل ہونے کی بنا پر صحت کے لیے کس قدر مضر ہے۔
پروسس اور محفوظ شدہ غذائیں جسم میں سوزش پیدا کرنے کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ غذا میں کیچپ کو شامل کرنے سے پہلے اس کے مضر صحت اثرات کے بارے میں بھی جان لیں۔
ایسڈ ریفلکس
ٹماٹر میں بہت زیادہ سائٹرک اور مالیک ایسڈ ہوتے ہیں۔ اگران کا کثرت سے استعمال کیا جائے تو یہ ایسڈ ریفلوکس کا سبب بن سکتے ہیں۔ جب یہ تیزاب معدے میں داخل ہوتے ہیں، تو وہ اکٹھے ہو کر گیسٹرک ایسڈ بناتے ہیں، پھر جسم انہیں کھانے کو ہضم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ لہذا، یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ پیٹ کے مسائل والے افراد ٹماٹر یا ٹماٹر کیچپ کھانے سے گریز کریں۔
موٹاپا
ٹماٹو کیچپ میں بہت زیادہ شوگر اور پرزرویٹیو موجود ہوتے ہیں جو جسم میں چربی اور موٹاپے میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ بہت زیادہ ٹماٹو کیچپ کھانے سے جسم میں انسولین کی سطح کم ہوجاتی ہے۔
الرجی
ٹماٹو کیچپ میں ہسٹامین شامل ہوتی ہے جس کا کثرت سے استعمال جسم میں کئی طرح کی الرجی کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم یہ اس بات پر منحصر ہے کہ اسے کتنی مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے۔
جب ٹماٹر کچے کھائے جاتے ہیں تو سالمونیلا کی نمائش اسہال کا باعث بن سکتی ہے۔ ہاضمے کے مسائل ان لوگوں پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں جو ٹماٹر کو ہضم نہیں کر پاتے۔
دل کی بیماریاں
ٹماٹو کیچپ کا باقاعدگی سے استعمال آپ کے جسم کو زیادہ فریکٹوز کارن سیرپ پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے، جو کہ بڑھے ہوئے ٹرائگلیسرائیڈز اور دل کی بیماری سے منسلک ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مرد حضرات بہتر صحت کے لیے ان غذاؤں کا انتخاب کریں
دیگر مسائل
ٹماٹر کا زیادہ استعمال اکثر منفی ضمنی اثرات رکھتا ہے جیسے سوجن اور جوڑوں کا درد۔ ٹماٹر کے پھل میں بہت زیادہ سولانین ہوتا ہے۔ یہ مادہ ٹشوز میں کیلشیم جمع کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ان کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں سوزش اور جسمانی تکلیف ہوتی ہے۔
گردوں کی پتھری
زیادہ سوڈیم اور پراسیسڈ فوڈز کا استعمال جسم میں کیلشیم کی مقدار کو بڑھاتا ہے جس سے گردے میں پتھری بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ہر چیز کی زیادتی بری ہوتی ہے اس لیے اگر آپ ٹماٹر کی چٹنی کوغذا کاحصہ بنانا چاہتے ہیں تو اسے اعتدال میں رہتے ہوئے استعمال کریں۔




















