وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارٹی کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل آف پاکستان شہزاد عطا الہیٰ نے فیصلے پر وزیراعظم کو بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق قانونی ٹیم نے کہا ہے کہ درحقیقت سپریم کورٹ کا فیصلہ چار تین سے آیا اور درخواستیں مسترد ہو گئیں۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے قانونی ٹیم کی رائے سے اتفاق کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر نہیں کی جائے گی بلکہ ہائی کورٹس کے فیصلوں کا انتظار کیا جائے گا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نواز شریف سے بھی رابطہ کر کے تفصیلات سے آگاہ کیا تاہم وزیراعظم شہباز شریف اتحادی جماعتوں کے سربراہان سے بھی رابطہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا کے پی اور پنجاب میں 90 دن میں انتخابات کروانے کا حکم
اس سے قبل سپریم کورٹ کے باہر اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہیٰ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج جو آئینی اور قانونی بات ہے وہی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ فیصلہ جب بہت واضح ہو اور اس میں کوئی الہام نہ ہو تو فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ معاملہ جب ہائیکورٹ میں ہوتوسپریم کورٹ سوموٹو نہیں لے سکتی اور اس معاملے پر 2 ہائیکورٹس میں درخواستیں زیرسماعت ہیں اور ہائیکورٹس میں معاملےکی تشریح ہوسکتی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ ہمارا مؤقف ہے درخواست 3 کے مقابلے میں 4 ججز نے مستردکی جس کے مطابق 4 ججز نے پٹیشن کو مسترد کیا، 3 نے قابل سماعت قراردیا اور 2 ججز نے رضا کارانہ طور پر خود کو بنچ سے الگ کیا تھا۔



















