عمران خان نے کہا ہے کہ جیل بھرو تحریک ملکی سیاسی تاریخ میں جدوجہد کا سنہرا باب ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف کی زیرِصدارت اہم ترین اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی صورتحال، تحریک انصاف کی سیاسی حکمتِ عملی اور وزیراعظم کی سرکردگی میں عدلیہ اور ججز پر حملوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے 5 رکنی بنچ کے فیصلے کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا جبکہ وفاقی حکومت خصوصا وزیرِ قانون اور اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالتی حکمنامے کی گمراہ کن تشریحات پر شدید ناگواری کا اظہار بھی کیا گیا۔
اجلاس میں الیکشن کمیشن سے آئین کی روح اور سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں 90 روز میں انتخابات کروانے کیلئے پنجاب و پختونخوا میں انتخابات کے فوری شیڈیول کے اعلان کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
اجلاس میں پنجاب اور پختونخوا میں فوری طور پر امیدواروں کے تعین کا عمل مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ سیاسی کمیٹی کو پنجاب اور پختونخوا کیلئے بھرپور انتخابی مہم کی تیاری و اعلان کی ہدایات بھی دی گئی۔
اجلاس میں چیئرمین تحریک انصاف کی عدالتوں میں پیشی کے دوران استقبال کرنے والے کارکنان و قائدین پر جھوٹے پرچوں کے اندراج کی شدید مذمت کی گئی جبکہ اجلاس میں بدترین مہنگائی اور عوام پر اسکے ناقابلِ بیان اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ جمہوریت اور آئین سے صریح انحراف کی راہ پر گامزن گروہ عدلیہ پر حملہ آور ہے، پی ڈی ایم نے وزیراعظم کی نگرانی میں معزز ججز کیخلاف شرمناک مہم کے ذریعے عدالت کو دباؤ میں لانے کی قابلِ مذمت کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ اس گروہ کا اعمال نامہ ججوں کی خریداری اور عدالتوں پر مسلح یلغار کی سیاہ تاریخ رکھتا ہے، دباؤ اور سازشوں کا نہایت جرات سے مقابلہ کرنے اور آئین کو برقرار رکھنے پر معزز ججز خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ آئین سے انحراف کی کسی کوشش کو نہ پہلے قبول کیا نہ آئندہ کریں گے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک میں قانون کی حکمرانی پر چھائے لاقانونیت کے سیاہ بادل چھٹنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جیل بھرو تحریک ملکی سیاسی تاریخ میں جدوجہد کا سنہرا باب ہے، خوف کی زنجیریں توڑ کر خود کو رضاکارانہ طور پر گرفتاریوں کیلئے پیش کرنے والے قائدین و کارکنان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کل نہایت پرامن طریقے سے میرے استقبال کیلئے نکلنے والے شہریوں اور کارکنان پر دہشتگردی کے مقدمات قائم کرکے شرمناک فسطائیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے، ان حربوں سے قوم پہلے خوفزدہ ہوئی نہ ہی آئندہ مرعوب ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایک جانب بنیادی حقوق کی خلاف ورزی دوسری جانب یہ نااہل، نالائق اور کرپٹ گروہ نہایت بےرحمی سے عوام کو بدترین مہنگائی تلے کچل رہا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں اشیائے خورونوش کی مہنگائی 47% کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے۔
عمران خان نے یہ بھی کہا کہ شہری علاقوں میں اشیائے خورونوش 42% مہنگی ہوچکی ہیں، قومی سطح پر صاف شفاف انتخابات کا بلاتاخیر انعقاد ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی واحد تدبیر ہے۔
سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے مزید کہا کہ کارکنان اور ذمہ داران پنجاب و پختونخوا میں بھرپور انتخابی مہم کی تیاری کریں، خود قیادت کروں گا، انتخاب کو التواء میں ڈالنے یا عوام کا سامنا کرنے سے گریز کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔



















