جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دوران ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔
اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ ٹیلی فونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عام انتخابات کے حوالے سے نواز شریف کو اپنے موقف سے آگاہ کیا اور نواز شریف سے مشترکہ حکمت عملی کے تحت فیصلے لینے پر زور دیا۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں کے بغیر انتخابات مشکوک اور متنازعہ ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے بطور فریق رجوع کرے تاہم نوازشریف نے مولانا کے مطالبات سے اتفاق کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ٹیلیفونک رابطے کے دوران نواز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ شہباز شریف اور آصف زرداری سے بات کروں گا۔
پی ڈی ایم قیادت شش و پنج میں مبتلا
پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے انتخابات کے معاملے پر شش و پنج میں مبتلا تین بڑے حکومتی اتحادیوں میں اختلاف رائے بڑھنے لگا۔
ذرائع کے مطابق سابق صدر زرداری، پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ابتدائی مشاورت میں تینوں جماعتوں کی آراء میں واضح فرق نظر آیا۔
ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے انتخابات مردم شماری کے بعد کروانے کا موقف دیدیا ہے جبکہ سابق صدر زرداری عدالتی حکم پر انتخابات کروانے کے حامی ہیں اور بلاول بھٹو کو ڈیجیٹل مردم شماری پر شدید تحفظات ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی وطن واپسی پر اتحادی سر جوڑ کر بیٹھیں گے، وزیر اعظم، مردم شماری، انتخابات سمیت دیگر امور پر اتحادیوں سے مشاورت کریں گے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہ ہوئے تو پی پی اور ن لیگ اتحاد آگے نہیں بڑھے گا۔
واضح رہے کہ ایک اور حکومتی اتحادی آفتاب شیرپاؤ نے بھی قومی وطن پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے جبکہ اے این پی کے بھی حکومت سے فاصلے بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔



















