Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

خصوصی افراد کی رہنمائی کیلئے اعلیٰ سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے ، صدر مملکت

صدر مملکت نے کہا ہے کہ خصوصی افراد کی رہنمائی کیلئے اعلیٰ سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت معذوری کی درجہ بندی اور شدت سے متعلق اجلاس ہوا جس میں صدر مملکت نے خصوصی افراد کو کیریئر کونسلنگ فراہم کرنے کی ضرورت پر پر زور دیا۔

اجلاس میں وزارت انسانی حقوق کے ڈائریکٹر جنرل سماجی بہبود عبدالستار نے معذوری کی درجہ بندی کے فریم ورک پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ خصوصی افراد کے حقوق کو فروغ دینے اور ان کے تحفظ کے لیے ایکٹ نافذ کیا گیا ہے، میڈیکل بورڈ ہر ماہ میں دو اجلاس کرتا ہے ، ایک دن میں  اہل افراد کو معذوری سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے۔

بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا گیا کہ معذوری کی شدت کی بنیاد پر معذوری کی حد کا تعین کرنے کے لیے ایک فریم ورک کی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ فریم ورک کو وزارت انسانی حقوق نے وزارت صحت ، نِرم اور کونسل برائے حقوقِ خصوصی افراد  کے ساتھ مل کر ڈیزائن کیا گیا ہے اور منظور شدہ فریم ورک کو رہنمائی کے لیے صوبوں کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا ہے۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے معذوری کی درجہ بندی کا نظام تیار کرنے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے وزارت انسانی حقوق اور وزارت قومی صحت کی طرف سے خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لئے کئے گئے کام کو سراہا۔

صدر مملکت نے کہا کہ خصوصی افراد کی معذوری کی نوعیت اور شدت  اور ان ہنر کے مطابق مناسب ملازمتوں کی طرف رہنمائی کی جائے ، خصوصی افراد کی رہنمائی کیلئے اعلیٰ سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے یہ بھی کہا کہ کمیٹی میں پرائیویٹ سیکٹر اور دیگر ماہرین کو شامل کیا جائے، کمیٹی رہنمائی کے ساتھ خصوصی افراد کو ان کی صلاحیتوں اور قابلیت کے مطابق ملازمتوں کے بارے میں بھی بتائے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے معذوری کی درجہ بندی کے ایک معیاری اور مستقل نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ معذوری کی درجہ بندی کے نظام سے خصوصی افراد کی ضروریات کی نشاندہی کے علاوہ  انہیں مناسب مدد اور خدمات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

اجلاس میں وزارت انسانی حقوق ، وزارت صحت ، کونسل برائے حقوقِ خصوصی افراد  کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ خبریں