عدالت نے عمران خان کی عدالتوں میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کے لئے دائر درخواست بطوراعتراض کیس سماعت کیلئے مقررکردی۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کو فول پروف سیکیورٹی اور ویڈیو لنک کےذریعےعدالت پیشی کی اجازت کے معاملے میں عمران خان کی درخواست پر بطور اعتراضی پٹیشن سماعت ہوئی۔
وکیل عمران خان بیرسٹرسلمان صفدرنے دلائل دیے کہ لاہورہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے مصدقہ دستاویزات منسلک نہ کرنے کا اعتراض عائد کیا۔ غیرضروری افراد اور محکموں کو پارٹی بنانے کا اعتراض ہے، تمام دفتری اعتراض کے مطابق بنانے گئے فریقین کو ہٹا دیتے ہیں۔
عدالت نے ریماکس دیے کہ مقدمات کی تفصیلات کا معاملہ بعد میں دیکھ لیں گے۔
واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر اور انتظار حسین پنجوتہ کےتوسط سے درخواست دائر کی ہے۔
عدالت نے عمران خان کی عدالتوں میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کے لئے دائر درخواست بطور اعتراض کیس سماعت کیلئے مقررکی، اس سے قبل رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض عائد کیا گیا کہ درخواست میں متعلقہ ذمہ داران کو فریق نہیں بنایا گیا۔ درخواست کے ساتھ متعلقہ دستاویزات بھی نہیں لگائی گئیں۔
عمران خان نے درخواست سلمان صفدر ایڈووکیٹ کے توسط سے داٸر کی جس میں وفاقی اور صوباٸی حکومت، آئی جی پنجاب اور اسلام آباد سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان ملک کے بڑے سیاسی لیڈر اور سابق وزیراعظم ہیں، ایک سازش سے عمران خان کی حکومت گراٸی گٸی، موجودہ حکومت جب سے آٸی ہے انتقامی کاررواٸیوں میں مصروف ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، مقدمات کا مقصد عمران خان کو عدالتوں میں گھسیٹنا ہے۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف پیش کیا گیا کہ عدالتوں میں پیشی کے دوران دوبارہ حملہ ہونے کا خدشہ ہے۔ عمران خان پر پہلے ہی قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے اب بھی سیریس تھریٹس ہیں۔ استدعا ہے کہ عدالت عمران خان کی فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دے اورعدالت عمران خان کو غیر قانونی مقدمات میں گرفتاری اور ہراساں کرنے سے روکے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت ویڈیو لنک یا اسکاٸپ کے ذریعے حاضری کی اجازت دے، عدالتتوں میں پیشی پر مناسب سیکیورٹی فراہم نہ کرنے پر ذمہ داروں کے خلاف کاررواٸی کا حکم دیا جاٸے۔




















