وفاقی وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ حکومت کو کاروبار کے راستے سے ہٹ جانا چاہیے، کاروبار میں آسانی ہونی چاہیے، سستے قرضوں کی اسکیم میں 600 ارب قرضے دے ڈالے فیکٹریاں لگ گئیں گیس نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق مصدق ملک نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آدھے سیٹھ کو 11 روپے کی بجلی بنے گی جبکہ باقی آر ایل این جی پر کام کریں گے، 11 روپے اور 40 روپے کی بجلی میں مقابلہ ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب بحرین سے سستی گیس اپنی فرٹیلائزرز سیکٹر کو دیتے ہیں، مہنگا خرید کر سستا بیچتے ہیں، ایل این جی سے بجلی بنا کر 30 ہزار کمانے والے سے پورے پیسے نکلواتے ہیں جبکہ سیٹھ کو 70 سینٹس میں گیس دیتے ہیں، ایل این جی کی گیس پر بجلی بنائی جائے تو 26 روپے اور اگر ویل ہیڈ پر بنائیں تو 6 روپے کی قیمت پر بجلی بنتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آدھی فیکٹریاں چلیں گی 40 روپے اور آدھی چلیں گی 11 روپے پر تو لڑائی ہو گی، جب مقامی صنعت کی پیدواری قیمت بڑھاتے ہیں تو درامدات کو سبسڈی دیتے ہیں۔



















