بول ٹی وی پر حکومت نے ایک اور حملہ کردیا، کسٹمز اہلکار کسی نوٹس کے بغیر بول ہیڈ آفس پہنچ گئے۔
بول نیوز کو بولنے سے روکنے کے لیے ایک اور ہتھکنڈا ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کردیا، کسٹمز اہلکاروں نے بول نیوز کے ہیڈ آفس پر غیر قانونی چھاپہ مارا ہے، کسٹم حکام اور اہلکاروں کی بڑی تعداد بول ہیڈ کواٹر کے اندر زبردستی داخل ہوگئی۔
کسٹمز اہلکاروں نے بول نیوز کے ہیڈ آفس پر غیر قانونی چھاپہ مارا ہے۔۔ کسٹم حکام کی بڑی تعداد بول ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل ہوئی۔۔ #BOLNews #BreakingNews pic.twitter.com/hF90h0ZMkX
— BOL Network (@BOLNETWORK) March 13, 2023
کسٹم حکام کی جانب سے بول نیوز کا سامان اٹھانے کی کوشش کی گئی جس کے بعد بول نیوز ہیڈ کواٹر کو رینجرز اور پولیس نے گھیر لیا ہے۔
چھاپے کے دوران کسٹم حکام نے 2015 کی خریداری کی انوینٹری دکھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ انوینٹری چیک کرنی ہے بول ہیڈ کواٹر کے ہر حصے کو چیک کریں گے۔
غیرقانونی چھاپے کے دوران بول نیوز کے مختلف ڈیپارٹمنٹ میں بغیر کسی وارنٹ کے سرچنگ کی گئی جبکہ کسٹم حکام کی جانب سے بول نیوز کی نشریات کو بند کرنے کی بھی ناکام کوششش کی گئی۔
بول ہیڈ آفس پر بلا جواز چھاپہ تین گھنٹے تک جاری رہا اور اس کے بعد ایف آئی اے اور کسٹم حکام بنا کچھ بتائے فرار ہوئے۔
بول نیوز کے ملازمین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کے یو جے صدر فہیم صدیقی بول کے ہیڈ آفس پہنچے جہاں ان کا کہنا تھا کہ بول نیوز پر چھاپہ آذادی صحافت پر حملہ ہے، بول نیوز پر چھاپہ کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔



















