Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بول نیوز ہیڈ آفس پر چھاپہ، پی ٹی آئی رہنماؤں کی مذمت

پاکستان تحریک انصاف رہنماؤں کی جانب سے بول نیوز ہیڈ آفس پر چھاپے کی مذمت کی گئی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی بول نیوز کے دفتر پر چھاپے کی مذمت

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے بول نیوز کے دفتر پر کسٹمز اہلکاروں کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بول ٹی وی کو بند کرنے کی مذموم کوششوں کی مذمت کرتے ہیں، میڈیا اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر ان فسطائی کوششوں کے خلاف متحد ہو، ورنہ یہ فاشسٹ حکمران ساری صحافتی آزادیاں سلب کر لیں گے۔

پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کی مذمت

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے بول نیوز کے دفتر پر کسٹمز اہلکاروں کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے شعیب شیخ کو گرفتار کیا گیا اور اب بول ہیڈ آفس پر کسٹمز حکام کا چھاپہ انتقامی کارروائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت ہر اس میڈیا کی آزاد آواز کو دبانا چاہتے ہیں، جو عوام کے سامنے حق اور سچ پیش کرتا ہے،شہباز شریف کی دور حکومت میں پاکستان میں آزادی صحافت پر قدغن لگادی گئی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری کی مذمت

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے بھی بول نیوز کے دفتر پر کسٹمز اہلکاروں کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسٹم افسران نے بغیر کسی وارنٹ یا قانونی موقف کے کراچی میں بول ٹی وی کے دفاتر پر دھاوا بول دیا، اس سے قبل چیئرمین شعیب شیخ کی گرفتاری اب تمام عملے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، صرف اس لیے کہ انہوں نے کٹھ پتلی حکومت کو بے نقاب کیا۔

رہنما پی ٹی آئی مراد سعید کی مذمت

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پی ٹی آئی رہنما مراد سعید نے بول نیوز کے دفتر پر کسٹمز اہلکاروں کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بول کے ہیڈ آفس پرچھاپہ غیر قانونی ہے ،پہلے چینل کے چیئرمین کو گرفتار کیا گیا اور اب بول کو بند کرنے کی تیاری، کس حد تک جاؤگے؟خدا کے نظام میں ظلم کی رسی جتنی دراز ہو اتنا زور سے کھینچی جاتی ہے۔

سابق وفاقی وزیرعلی زیدی کی مذمت

اپنے ایک بیان میں پی ٹی آئی سندھ کے صدروسابق وفاقی وزیرعلی زیدی نے بول نیوز ہیڈ آفس پر ریڈ کی مذمت کی ہے۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ بول کو مسلسل انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے، بول نیوز کے ہیڈ آفس پر ریڈ اور ملازمین کو ہراساں کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔

علی زیدی نے مزید کہا کہ بغیر نوٹس اور وارنٹ کے ریڈ غیر قانونی ہے، بول کے ہیڈ آفس پر ریڈ آزادی آزادی صحافت پر حملہ ہے،شعیب شیخ کی گرفتاری کے بعد سے حکومت کے بول پر مستقل حملے جاری ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان کی مذمت

پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے بول نیوز کے دفتر پر کسٹمز اہلکاروں کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بول نیوز کو سچ و حق کی آواز بلند کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔

خرم شیر زمان نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کو اپنی گندی سیاست کا استعمال صحافیوں پر کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے، یہ اپوزیشن میں بیٹھ کر آزادی صحافت کے راگ لاپا کرتے تھے، حکومت کی بول نیوز کے ساتھ انتقامی کارروائیاں شرمناک ہیں۔

اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ کی مذمت

بول ہیڈ آفیس پر بلا جواز کارروائی پر اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ نے بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بول ہیڈ آفیس پر چھاپے کی شدید مذمت کرتے ہیں، بول ہیڈ آفس پر بلا جواز چھاپہ آزاد صحافت پر حملہ ہے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ بول کی آواز بند کرنے کے لئے پہلے شعیب احمد شیخ کو گرفتار کیا گیا، اب بول آفیس پر چھاپہ مار کر امپورٹڈ حکومت سچ کو دبانا چاہتی ہے۔

اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ بول نیوز کو سچ دکھانے پر مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے، امپورٹڈ حکومت کے تابوت میں آخری کھیل لگ چکی ہے، امپورٹڈ حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے زیادہ نہیں چلیں گے۔

پی ٹی آئی کراچی کے صدر آفتاب صدیقی کی مذمت

پی ٹی آئی کراچی کے صدر آفتاب صدیقی نے بول نیوز کے دفتر پر کسٹمز اہلکاروں کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بول نیوز پر کسٹمز اہلکاروں کے چھاپے صحافیوں کو ہراساں کرنے کی مذمت کرتے ہیں، میڈیا ہاؤسز پر حملے یقیناً آزادی صحافت پر یقین رکھنے والے نہیں کرسکتے، دونمبر حکومت بول نیوز کو سیاسی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا رہی ہے، بول نیوز حقیقی آزادی کی تحریک میں ایک مثبت کردار ادا کررہا ہے، اداروں کا سیاسی حملوں کے لیے استعمال شرمناک ہے۔

بول ٹی وی پر حکومت کا ایک اور حملہ

بول ٹی وی پر حکومت نے ایک اور حملہ کردیا، کسٹمز اہلکار کسی نوٹس کے بغیر بول ہیڈ آفس پہنچ گئے۔

بول نیوز کو بولنے سے روکنے کے لیے ایک اور ہتھکنڈا ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کردیا، کسٹمز اہلکاروں نے بول نیوز کے ہیڈ آفس پر غیر قانونی چھاپہ مارا ہے، کسٹم حکام اور اہلکاروں کی بڑی تعداد بول ہیڈ کواٹر کے اندر زبردستی داخل ہوگئی۔

  کسٹم حکام کی جانب سے بول نیوز کا سامان اٹھانے کی کوشش کی گئی جس کے بعد بول نیوز ہیڈ کواٹر کو رینجرز اور پولیس نے گھیر لیا ہے۔

چھاپے کے دوران کسٹم حکام نے 2015 کی خریداری کی انوینٹری دکھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ انوینٹری چیک کرنی ہے بول ہیڈ کواٹر کے ہر حصے کو چیک کریں گے۔

متعلقہ خبریں