وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ میں نے کبھی عمران خان کو قتل کرنے کی دھمکی نہیں دی۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت کا احترام کرنے والے لوگ ہیں، یہ بے بنیاد مقدمہ ہے جو پرویز الٰہی کے دور میں درج کیا گیا، پولیس نے اس مقدمہ کو خراج کر دیا تھا، عدالت کے احترام میں یہاں پیش ہوا ہوں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایک صاحب عدالت میں پیش ہونے کے لیے اپنے ساتھ اتنا بڑا لشکر لاتے رہے کہ عدالت میں کام کرنا محال ہو گیا، اسلام آباد میں جو مناظر دیکھنے میں آئے وہ قابل شرم ہیں، عمران خان کے خلاف ابھی قانون حرکت میں آیا ہے، عمران خان جو زبان استعمال کرتے ہیں اس پر قانون کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ معیشت کی جیسی بری حالت ہے وہ اس ہی عمران خان کی وجہ سے ہے، جو معاہدہ عمران خان نے آئی ایم ایف سے کیا ہے اس کو پورا کرتے کرتے ہم کہاں تک پہنچ گئے ہیں، ملک کا آئین کہتا ہے کہ ملک میں انتخابات اکٹھے اور نگران سیٹ اپ میں ہونے چاہیے، اگر دو اسمبلیوں کے انتخابات پہلے کروا دیتے ہیں تو وہ ملک میں انارکی لے کر آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے عمران خان کو قتل کی کوئی دھمکی نہیں دی میں نے سیاسی وجود کی بات کی ہے، جو بھی برائی ہے وہ ختم عمران خان پر جا کر ہی ہوتی ہے، انہوں نے وزیر آباد واقعے کی جھوٹی ایف آئی آر ہمارے خلاف درج کروانے میں کوشیش کی، جج کے فیصلے تقسیم نہیں ہوتے ان کی رائے ہوتی ہے، جو فیصلہ چار ججز نے دیا ہے اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے اب کافی کچھ نکلے گا، اتنا کچھ نکلے گا کہ وہاں بس فتنہ ہی رہ جائے گا، مریم نواز کبھی بھی کوئی جھتہ لیکر عدالت پیش نہیں ہوئیں، عمران خان نے تو باقاعدہ کمپین کی کہ سب اکٹھے ہو کر عدالتوں پر حملہ اور ہوں، ہم نے حکومت اس لیے لی کہ ملک کی صورتحال کو بہتر کیا جائے، عمران خان جیل جائے گا یا نہیں یہ عدالتوں کا کام ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان کے خلاف جتنی بھی ایف آئی آر ہیں کوئی ایک ایف آئی آر نکال دیں جو کام انھوں نے نہ کیا ہو، ارشد شریف کی شہادت کے حوالے سے جو ہماری ٹیم وہاں گئی تھی کہ شناخت کی غلطی کی وجہ سے یہ واقعہ ہوا، میری زاتی رائے یہ ہے کہ ارشد شریف کو قتل کیا گیا، یہ پراپیگنڈا غلط ہے کہ عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس دن عمران خان نے جیل بھرو تحریک شروع کی اس کی مقبولیت کہاں تھی؟ عمرانی فتنے کی قوم کو شناخت کرنا چاہیے، ووٹ کی طاقت سے عمران خان کا سیاسی وجود پاکستان سے مائنس ہونا چاہیے۔
ضرور پڑھیں؛ پی ڈی ایم کی ناکامی سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، فیاض الحسن چوہان



















