وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کردیا جس کے تحت کسی بھی از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز کریں گے۔
سپریم کورٹ کے رولز میں ترمیم کے بِل کے حوالے سے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ماضی میں سپریم کورٹ نے انتظامی معاملات پر ایک دن میں 4 ازخود نوٹس لیے، سپریم کورٹ کے قواعد سے متعلق بہت تنقید ہوتی رہی ہے۔
وفاقی وزیر قانون سینیٹراعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ماضی میں بعض ازخود نوٹس ادارے کی تکریم میں اضافے کا باعث نہیں بنے، کئی نوٹس کے تحت ایسے فیصلے ہوئے جس سے نقصان ہوا، ادارے کا تقدس متاثر ہوا۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھاکہ جو مقدمہ سپریم کورٹ میں دائر ہو گا وہ ایک کمیٹی کسی بینچ کو بھیجے گا، کمیٹی طے کرے گی کہ معاملہ انسانی حقوق کا ہے یا نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ازخود نوٹس کا معاملہ کم از کم تین رکنی بینچ کو بھیجا جائے گا اور ازخود نوٹس میں تین سینیئر ججز جن میں چیف جسٹس بھی شامل ہوں گے۔
اسپیکر قومی اسمبلی
اس کے بعد ایوان میں بل پر بحث کی گئی، بعدازاں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشزف نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بھیج دیا اور کہا کہ آرڈر آف دی ڈے یہ تھا کہ سپریم کورٹ سے متعلق بل آج ہی پاس کیے جائیں، ایوان کی رائے کے مطابق دونوں بل لاء اینڈ جسٹس کمیٹی کو بھیجے جارہے ہیں۔
انہوں نے رولنگ دی کہ سپریم کورٹ سے متعلق دونوں ترمیمی بل کمیٹی کو بھیجے جاتے ہیں اور کمیٹی سے درخواست ہے کہ رپورٹ جلد ایوان میں پیش کرے۔
ترمیمی بل
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں عدالتی اصلاحات سے متعلق قانون سازی کے لیے بل کا مسودہ منظوری کیلئے پیش کیا گیا۔
وفاقی کابینہ نے آئین کے آرٹیکل 184 تھری کے تحت سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے اختیار کا بھی جائزہ لیا اور بعد ازاں اسے منظور کرلیا۔
ترمیمی بل کے مطابق از خود نوٹس کا فیصلہ تین سینیئر ججز کریں گے، تین رکنی سینیئر ججز کی کمیٹی از خودنوٹس کا فیصلہ کرے گی۔ ترمیمی بل کے تحت از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق ہوگا اور 30 دن میں اپیل دائر ہوسکے گی، اپیل کو دو ہفتوں میں فکس کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس کے اختیارات کو کم کرنے کیلئے حکومت نے عدالتی اصلاحات کا بل منظور کر لیا ہے، بل منظور ہونے کے بعد اب چیف جسٹس از خود نوٹس نہیں لے سکیں گے ، بلکہ چیف جسٹس کے ہمراہ 2 سینئر ترین ججز پر مشتمل کمیٹی از خود نوٹس لینے کا فیصلہ کرے گی۔



















