Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس؛ آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر کے معاملے پر غور

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے منعقدہ اجلاس میں آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر کے معاملے پر غور ہوا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹر محسن عزیز نے آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر کا معاملہ اٹھا دیا۔

چیئرمین فاریکس ایسوسی ایشن ملک بوستان نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کو 10 ارب ڈالر اکھٹے کر کے دیئے، اس حکومت کو چار ارب ڈالر اب تک دے چکے ہیں، سالانہ تین سے چار ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں سرنڈر کرتے ہیں، پاکستان کو دو سال کیلئے 1 ارب ڈالر دینے کو تیار ہیں، آئی ایم ایف پاکستان کو ذلیل و خوار کر رہا ہے، دنیا میں کہیں بھی ٹرانزیکشن کی ویڈیو ریکارڈنگ نہیں ہوتی ہم کرتے ہیں۔

ملک بوستن نے کہا کہ ہندی حوالہ کا لائسنس دوبئی اور برطانیہ میں دیا گیا ہے، حکومت سے درخواست ہے کہ ہمیں بھی حوالہ ہنڈی کا لائسنس جاری کیا جائے، ہمارا پیسہ کرپٹو اور فاریکس ٹریڈنگ میں جا رہا ہے، جو پاکستان ڈالر یا ریال لیکر آتا ہے ان سے رسید نہ مانگی جائے۔

سینیٹر محسن عزیز نے اس موقع پر کہا کہ ہم نے جن نکات پر عمل کرنا تھا وہ کر دیا ہے اور ڈیڑھ ماہ ہو گئے، عوام پر بوجھ ڈال دیا گیا لیکن معاہدہ نہیں ہو رہا ہے، نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم اور نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے، عمران خان پر تنقید کی جاتی ہے کہ انہوں نے غلط معاہدہ کیا ہے، بیرونی فنانسنگ کا مسئلہ موجود ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے؟

وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں اس بات سے متفق ہوں کہ غیر معمولی حالات ہیں، اس حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام بحال کیا گزشتہ حکومت نے اپنی کمٹمنٹ پوری نہیں کی، آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اعتماد کا فقدان تھا جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے، آئی ایم ایف یہ مطالبہ کرتا ہے پہلے یہ کام کیا جائے۔

عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ حکومت نے 170 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے، قیمتوں میں اضافہ اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات لیکر آئی، اس وقت برادر ممالک کی جانب سے فنانسنگ کی یقین دہانی کا مسئلہ تھا، کل شام کو اس معاملے پر پیش رفت سامنے آئی ہے، تمام ترجیحی نکات کو پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کے مطابق پورا کیا ہے، ہمیں اس معاملہ پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات اب پہلے جیسے نہیں ہیں ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا پڑے گا۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے سوال کیا کہ کونسے برادر ممالک ہیں جن سے پاکستان کو فنانسنگ ملنی ہے؟

عائشہ غوث پاشا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین نے ہماری مدد کی ہے اور سعودی عرب اور یو اے ای سے یقین دہانی آئیگی، ہمیں ادارہ جاتی اصلاحات کی طرف بڑھنا ہو گا اور سبسڈیز ختم کرنی ہو گی، پیٹرول پر سبسڈی کا ڈیزائن مکمل نہیں ہوا اور کام ہو رہا ہے، آئی ایم ایف پیٹرول پر سبسڈی کے معاملے پر بات نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی ایک بڑا مسئلہ ہے، پیداوار میں اضافہ ہمارا ہدف ہونا چاہیے۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مفت آٹا دینے سے کام نہیں بنے گا اس قوم کو فقیر نہ بنائیں، کوئی ایسا میکنزم بنائیں جس سے عوام کو شراکت دار بنائیں۔

سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اگر ملک میں نجی بجلی گھر رہے تو ملک نہیں رہے گا، یا نجی بجلی گھر رہیں گے یا ملک رہے گا، نجی بجلی گھر مافیا ملک میں سب سے طاقتور ہے، اگر نجی بجلی گھر ختم نہ ہوئے تو ملک میں ہر طرف تباہی ہو گی۔

ضرور پڑھیں؛ آئی ایم ایف نے پیٹرول پر مجوزہ سبسڈی کی ابتدائی تجویز مسترد کر دی

متعلقہ خبریں