Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بچوں کے ہاتھ میں اسمارٹ فون دینے والے والدین ہوجائیں ہوشیار! ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

ماہرین نے ان والدین کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے جو اپنے کاموں یا مصروفیت کے دوران بچوں کو خاموش یا ایک جگہ تک محدود رکھنے کے لیے انہیں اسمارٹ فون یا ٹیبلیٹ دے دیتے ہیں۔

 حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں 18 سے 24 سال کی عمر کے لگ بھگ 28 ہزار نوجوانوں کے عالمی ڈیٹا کو استعمال کرکے بچپن میں اسمارٹ فون کے استعمال اور نوجوانی میں ذہنی صحت پر اس کے اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ نوجوان درحقیقت لڑکپن سے اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے بڑی ہونے والی پہلی نسل کا حصہ ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر بچوں کو پہلا اسمارٹ فون یا ٹیبلیٹ نوجوانی میں دیا جائے تو ان کی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔

اس کے مقابلے میں جن بچوں کو 6 سال کی عمر میں پہلا فون مل جاتا ہے، 18 سال کی عمر میں ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خطرہ 42 سے 74 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ بچوں کو جتنی کم عمری میں اسمارٹ فون مل جاتا ہے، اتنا ہی بالغ ہونے پر ذہنی صحت پر منفی اثرات کا خطرہ بڑھتا ہے۔