پیپلزپارٹی کے سینئیر رہنما لطیف کھوسہ نے پارٹی سے نکالے جانے کی تردید کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق لطیف کھوسہ نے پیپلز پارٹی سے نکالنے کی بات کرنے والے رہنماؤں کو حرجانے کا نوٹس بھیج دیا ہے۔
لطیف کھوسہ نے پارٹی سے نکالے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو شک ہے میں پیپلزپارٹی میں نہیں ہوں، مجھے کسی نے پیپلزپارٹی سے نہیں نکالا یہ غلط خبر چلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک قائمقام صدر نے یہ بھونڈی حرکت کی ان کو ہرجانے کا نوٹس بھیجا ہے، ان سے دو ارب روپے حرجانہ لے کر چھوڑدیں۔
پیپلزپارٹی کے سینئیر رہنما نے مزید کہا کہ آج بھی میں پیپلزپارٹی کی سینیٹر ایگزیکٹو کمیٹی کا ممبر ہوں، سی ای سی کے ممبر کو قائمقام صدر نہیں ہٹا سکتا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے قائم مقام صدر رانا فاروق سعید نے لطیف کھوسہ کی پارٹی رکنیت ختم کردی تھی۔
رانا فاروق سعید نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ لطیف کھوسہ سے کہا تھا کہ ریڈ لائن کراس نہ کریں لیکن انہوں نے پارٹی کی ریڈ لائن کراس کی۔
پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے قائمقام صدر نے الزام لگایا تھا کہ لطیف کھوسہ بطور وکیل پیپلزپارٹی میں آئے اور مراعات بھی لیتے رہے، وہ اپنے بیٹے کو اٹارنی جنرل لگوانا چاہتے تھے لیکن یہ عہدہ نہ ملنے پر بلیک میلنگ شروع کردی۔



















