رہنما پیپلز پارٹی و معروف قانون دان لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ ملک قائم رکھنا ہے تو دھرتی ماں سے پیار کرنا ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق رہنما پیپلز پارٹی و معروف قانون دان لطیف کھوسہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان بنا تھا تو ہم قوم بن کر ابھرے تھے ملک نہیں تھا لیکن قوم تھی جبکہ آج ملک ہے پر قوم نہیں ہے، ہم قوم کیوں نہ بن سکے، ہم میں لسانیت پیدا ہوئی، ون یونٹ بنی تو عددی برتری کے ان کے حقوق سے انکار کیا پھر ملک دو لخت ہوا، کبھی سوچا کسی نے 75 ہزار فوجی آروڑا کی پاؤں پہ پڑ کہ قید ہوئی، تاریخ کی بدترین شکست ہوئی، شکست اس وجہ سے ہوئی اس وقت عوام ساتھ نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہم کنگز پارٹیاں بناتے ہیں، بھٹو کو اکیلا کیا گیا، پیٹریاٹ بنائی گئی کدھر ہے آج پیٹریاٹ، کہاں ہے نیشنل پیپلز پارٹی؟ میں ہوں پیپلز پارٹی، میں عمران خان کا سپورٹر نہیں ہوں، میں جمہوریت کا سپورٹر ہوں، اس ملک کو جمہوریت کی ضرورت ہے، ملک قائم رکھنا ہے تو دھرتی ماں سے پیار کرنا پڑے گا اور دھرتی ماں اس گوشت پوشت کے لوگوں پہ مشتمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوریت کو حق حکمرانی دینے کے لیے تیار ہیں، یہ 90 روز میں الیکشن کروانے کے لئے تیار نہیں، مجھے تو لگتا ہے جب تک بلے کا نشان بیلیٹ پیپر پہ ہے یہ الیکشن نہیں کروائیں گے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ مجھ پہ اور اعتزاز احسن کو ٹی وی پہ چلانے پہ پابندی ہے، ایک شخص کا نام نہیں لیا جا سکتا، یہ وہ دور نہیں ہے کہ ایک اخبار اور ایک ٹی وی ہو اور آپ کنٹرول کر لیں، حوش کے ناخن لیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت کو شرم آنی چاہیئے توجوریاں بھری جا رہی ہیں، ایک سزا یافتہ مجرم کبھی لندن تو کبھی دوبئی بیٹھ کہ حکمرانی کرنی ہے، اس شخص نے چھوتی مرتبہ وزیر اعظم بننا ہے، تب کوئی جمہوریت نہیں کوئی الیکشن نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کہتے ہیں ہم نے کیوں ملٹری کورٹس کو چیلنج کیا ہے؟ بھائی آپ عام آدمی کو ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں کر سکتے ہیں، ملٹری کورٹس فوج کے لئے ہیں، فوج کا بھلے ٹرائل کریں اور ڈسپلن کو بحال کریں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف نے پہلے سپریم کورٹ پہ حملہ کیا تھا ججز کو تقسیم کیا تھا، اب بھی یہی کر رہے ہیں، قانون ختم ہوگیا تو کیا ہوگا لوگ پھر اپنے فیصلے خود کریں گے، اور سیز پاکستانیوں کو وقت کا حق دیا جانا چاہیئے، انہیں حکومت میں شامل کیا جانا چاہیئے، یہ اور سیز پاکستانی اگر ایک ایک ہزار ڈالر بھیج دیں تو پاکستان کا قرضہ نہ صرف ختم ہوگا بلکہ پاکستان فلاحی ریاست بن جائے گی
رہنما پیپلز پارٹی و معروف قانون دان لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ میں تو نہیں کہوں گا خوف کے بت توڑ دیں، جس نے کہا اس کے 10 ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور سب کچھ 9 مئی کے نیچے دفن کیا گیا، ٹی وی پہ 9 مئی کے علاوہ پاکستان میں کوئی مسائل ہی نہیں ہیں۔



















