ملک میں سیاسی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ سیاسی حریفوں میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت ہے جو ملک کو اس بحران سے نکالنے کے بجائے جمہوری نظام کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال رہے ہیں تاہم اب کراچی میں سیاسی ہلچل ہونے کو تیار ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی پریس کانفرنس میں اہم اعلانات متوقع ہیں۔
خالد مقبول صدیقی کی زیر صدارت ہونے والی پریس کانفرنس ایم کیو ایم پاکستان کے دفتر بہادرآباد میں کی جائے گی، جس میں ایم کیو ایم اپنا سیاسی لائے عمل کا اعلان کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی ہلچل کا مستقبل کیا ہوگا؟
گزشتہ روز کراچی میں ہندو کمیونٹی کے اعزاز میں دی گئی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا تھا کہ پاکستان میں بنیاد پرستی کی بنیاد وڈیرہ شاہی نظام سے ہے۔ ہم آپ کے پاس ووٹ لینے نہیں بلکہ محبت کا پیغام لے کر آئے ہیں، ہم سب پاکستان اور خصوصاً سندھ کے حالات سے پریشان ہیں، آج ہمارے اور آپ کے درمیان کئی قدریں مشترک ہیں، آپ ایک مذہبی اقلیت ہیں اور ہم ایک لسانی اقلیت ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ مصطفیٰ کمال بھائی نے کہا کہ وفاق سے سندھ کوایک ہزار ارب روپے ملتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ 300 ارب روپے وائٹ منی کے ذریعے ملتے ہیں، باقی کے 700 ارب روپے بلیک منی سے ملتے ہیں۔
خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے منگلا شرما کو اسمبلی میں بھیج کر ایک مثال قائم کی، منگلا شرما مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہیں، آپ ہمیں ووٹ دیں یا نہ دیں ہم آپ کے حقوق کی حفاظت کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔



















