سندھ میں نگران حکومت کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں اہم مشاورت کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر اُن سے ملاقات کی ہے۔
اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نگران حکومت کی تشکیل اور اسمبلیوں کی تحلیل کے حوالے سے اب تک کی مشاورت سے ایم کیو ایم کے وفد کو آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق متحدہ کے وفد نے وفاق اور سندھ میں نگران حکومت کے لیے کئی ناموں پر وزیر اعظم کو تجاویز دیں۔ ایم کیو ایم کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ سندھ کے لیے شعیب صدیقی کا نام تجویز کیا گیا ہے۔
ایم کیو ایم کے وفد نے اہم فیصلوں کے حوالے سے مشاورت نہ کرنے کا شکوہ کیا جس پر وزیراعظم نے یقین دہانی کروائی کہ تمام اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔
ترجمان ایم کیو ایم کے مطابق وزیر اعظم نے تمام اہم فیصلوں کے ہر مرحلے پر ایم کیو ایم پاکستان سے مشاورت کی یقین دہانی کروائی اور مشاورت کو یقینی بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی۔
کمیٹی انتخابات، نگران حکومت سمیت تمام معاملات پر ایم کیو ایم سے مشاورت کو یقینی بنائے گی۔ کمیٹی میں ن لیگ سے ایاز صادق، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق شامل ہونگے۔
ترجمان ایم کیو ایم کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں وفد کو بتایا کہ انتخابات پرانی مردم شماری پر کروانے کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
مزید پڑھیں؛ نگران وزیراعلیٰ سندھ کون ہوگا؟ ایم کیو ایم پاکستان نے نام شارٹ لسٹ کر لیا
وزیر اعظم شہباز شریف نے ووٹر لسٹوں میں شہری سندھ بلخصوص کراچی میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کو درست کرنے کی ہدایت کر دی۔
واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری، سید مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار اور سید امین الحق شامل تھے۔
اس کے علاوہ ملاقات میں احسن اقبال، ایاز صادق اور سعد رفیق بھی شریک تھے۔



















