سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کیخلاف درخواستوں پر آج کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
اٹارنی جنرل نے اپیل کا حق دینے کے معاملے پر وقت مانگا، اٹارنی جنرل کو ہدایات لینے کے لیے وقت دیا جاتا ہے، اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں عدالت کو یقین دہانیاں کروائیں، اٹارنی جنرل کے کیس کے میرٹس پر دلائل جاری ہیں۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ دوران تفتیش کسی ملزم کیخلاف سزائے موت کا کیس نہیں بنا اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ آج تک کسی زیر حراست شہری کا ملٹری ٹرائل شروع نہیں ہوا، اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ عدالت کو پیشگی بتائے بغیر ملٹری ٹرائل شروع نہیں ہو گا۔
سپریم کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے ملزمان کو پسند کا وکیل کرنے کی سہولت فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی، یقین دہانی کرائی گئی کہ ٹرائل کے دوران ملزمان کے وکلاء اور اہلخانہ موجود ہونگے، سول عدالتوں کی طرز پر شواہد ریکارڈ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی اور فیصلوں میں وجوہات بھی شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
تحریری حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے ملزمان کو سول عدالت میں اپیل کا حق دینے کیلئے وقت مانگا، اٹارنی جنرل کے مطابق وہ حکومت سے اپیل کے حق پر ہدایات لیکر آگاہ کرینگے۔
عدالت عظمیٰ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے فوجی عدالت میں عام کورٹس کی ہی طرح قانون کے مطابق شواہد ریکارڈ کیے جائیں گے، اٹارنی جنرل نے یقین دلایا کہ ملٹری کورٹس کے فیصلے میں تفصیلی وجوہات بھی دی جائیں گی۔
عدالت نے مزید سماعت یکم اگست تک ملتوی کر دی۔



















