ڈائریکٹر نتیش تیواری کی فلم ‘بوال’ 21 جولائی کو او ٹی ٹی پر ریلیز ہونے کے بعد تنقید کی زد میں آگئی۔
فلم بوال کے ریلیز کے بعد ناقدین اور شائقین نے ملے جلے ردعمل دیے۔
‘یاد رہے کہ فلم بوال’ کی کہانی ایک چھوٹے شہر میں تاریخ کے ٹیچر اجے ڈکشٹ اور اس کی بیوی نشا کے گرد گھومتی ہے۔
وہ دونوں جنگ عظیم دوئم کے علاقوں میں جانے کا سوچتے ہیں اور پولینڈ، نیدرلینڈز اور جرمنی جاتے ہیں۔
خیال رہے کیونکہ’ فلم بوال’ میں ایک ڈائیلاگ پر ٹوئٹر صارفین شدید غم و غصے میں ہیں۔
فلم سازوں نے ریلیشن شپ کے مسائل کو بدنام زمانہ آشوٹز کیمپ میں مظلوم انسانوں پر ڈھائے گئے بدترین مظالم سے تشبیہ دی ہے۔
واضح رہے کہ ‘آشوٹز’ نازی جرمنی کا سب سے بڑا کیمپ تھا جہاں ہولوکاسٹ کے دوران لاکھوں افراد کو قتل کیا گیا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں















