ایران کے پاسداران انقلاب نے امریکا اور دشمن قوتوں کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر 2 یا 3 اہداف کو نشانہ بنایا گیا تو جواب میں 20 دشمن اہداف پر حملے کیے جائیں گے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کا جواب انتہائی بڑے پیمانے پر دے گا اور دشمن کو جارحیت جاری رکھنے پر پچھتانا پڑے گا۔
حسین محبی نے آبنائے ہرمز میں امریکی بغیر پائلٹ آبدوز کو مبینہ طور پر قبضے میں لینے کے حوالے سے بتایا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول اور انتظام اب واضح، یقینی اور عملی طور پر ثابت ہوچکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو ایران کے آبی گزرگاہ کے انتظام کو مدنظر رکھنا ہوگا، بصورت دیگر وہ گزر نہیں سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی دشمن کارروائی کا جواب دینے کے لیے آبنائے ہرمز میں اپنی موجود صلاحیتیں استعمال کرے گا۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان کے مطابق امریکا کے 30 سے 40 بحری جہاز اور جنگی بیڑے پہلے خلیج فارس میں موجود تھے، تاہم اب ایک بھی امریکی جنگی جہاز اس علاقے میں موجود نہیں اور امریکی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے کم از کم 400 کلومیٹر دور جا چکے ہیں۔
حسین محبی نے دعویٰ کیا کہ ایران نے چند روز قبل تقریباً 500 کلومیٹر فاصلے سے ایک طیارہ بردار بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے میزائل، ڈرونز، تیز رفتار جنگی کشتیوں اور دیگر غیر روایتی جنگی صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جو اسے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں دشمن کے خلاف جوابی کارروائی کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل، کنڈینسیٹ اور پٹرولیم مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ ایران کی جانب سے اس گزرگاہ پر کارروائی یا پابندی عالمی توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کا مقصد صرف جوابی کارروائی نہیں بلکہ دشمن کو مستقبل میں حملہ کرنے سے روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر مزاحمت اور جوابی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔




















