Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ویڈیو لنک حاضری، چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواستوں پر فیصلہ جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی عدالتوں میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتوں میں حاضری کی درخواست نمٹا دی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔

فیصلے کے مطابق درخواست ضمانت دائری اور حتمی فیصلے کے وقت ملزم کی عدالت پیشی لازم ہے، ضمانت قبل از گرفتاری کے کیسز میں ملزم کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری لگائی جا سکتی ہے، ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری متعلقہ جج کی قبل از وقت اجازت کی جا سکتی ہے

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کے دوران استغاثہ کے شواہد ریکارڈ کرتے ملزم کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری لگائی جا سکتی ہے دوران ٹرائل ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے بیان کے وقت ملزم کی ذاتی حاضری ضروری ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جج سے قبل از وقت اجازت لیکر ضمانت قبل از گرفتاری میں ویڈیو لنک حاضری ہو سکتی ہے، ضابطہ فوجداری کی دفعہ 365 اور 554 کے تحت رولز بنانا اس عدالت کا دائر اختیار ہے دوران ٹرائل شواہد کو ریکارڈ کرنے کے حوالے سے جدید ضروریات کے مطابق رولز بننے چاہییں۔

فیصلے کے مطابق عدالت نے ویڈیو لنک حاضری کے لیے رولز بنانے سے متعلق اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹرار آفس رولز بنانے کے لیے مجاز اتھارٹی کو فیصلے کی کاپی بھیجے، مجاز اتھارٹی جدید ڈیوائسز کے استعمال اور شواہد کے دوران ویڈیو لنک حاضری کے رولز بنائے گی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کیخلاف ملک بھر میں متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں، درخواست گزار نے عدالتوں میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری لگانے کی استدعا کی جبکہ درخواست گزار نے ایف 8 کچہری کے تمام مقدمات کی سماعت کو جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرنے کی استدعا کی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ کریمنل جسٹس سسٹم میں ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے قانون میں تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے، قانون اور قواعد میں تبدیلیاں انصاف کے نظام میں انقلاب برپا کر سکتی ہیں، قانونی تبدیلیاں فیصلوں کا معیار، مقدار میں بھی بہتری لا سکتی ہیں، قانونی تبدیلیاں عدالتوں کو انصاف کی فراہمی میں تیزی لانے کے قابل بنائیں گی۔

فیصلے کے مطابق انصاف کی فراہمی کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال مختلف عدالتی نظاموں میں استعمال کیا جا رہا ہے، مغرب اور سرحد کے اس پار بھی بہت تیزی سے ترقی ہوئی ہے، جہاں قوانین ہمارے جیسے ہیں، پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مواصلات کے جدید ذرائع دستیاب ہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ بحیثیت ملک اس حقیقت سے غافل نہیں رہ سکتے کہ مستقبل جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے میں ہے، آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت انسانی وسائل کی بھی جگہ لے سکتی ہے ، حکومتوں کو عدالتی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کیلئے کوششیں کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے کرمنل جسٹس سسٹم کو مختلف مراحل پر ملزم کی موجودگی کی ضرورت ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں