انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی فنانسنگ کی روک تھام کے لیے اتھارٹی کے قیام کا بل قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹر فنانسنگ آف ٹیررزم اتھارٹی کے قیام کے بل کے مندرجات کے مطابق اتھارٹی انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے خلاف متعلقہ اداروں کے اقدامات کی نگرانی کرے گی، اتھارٹی کو ٹارگٹڈ مالیاتی پابندیاں بھی عائد کرنے کا اختیار ہو گا، اتھارٹی ایف اے ٹی ایف اور دیگر متعلقہ عالمی تنظیموں کے لیے فوکل پوائنٹ کا کردار ادا کرے گی۔
بل کے مطابق اتھارٹی منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی فنانسنگ سے نمٹنے کے لیے قومی حکمت عملی کی نگرانی کرے گی،اتھارٹی قومی حکمت عملی کے تناظر میں نیشنل ایکشن پلان کی منظوری بھی دے سکے گی، اتھارٹی انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے خلاف قومی پالیسیوں قوانین اور قواعد کا جائزہ لے سکے گی اور متعلقہ قوانین میں ترامیم بھی تجویز کر سکے گی، اتھارٹی پالیسی سازی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سفارشات بھجوا سکے گی،اتھارٹی کے چیئرمین کا تقرر وزیراعظم کا اختیار ہوگا،چیئرمین کا تقرر تین سال کے لیے کیا جائے گا، اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کا تقرر بھی وزیراعظم کا اختیار ہوگا۔
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹر فنانسنگ آف ٹیررزم اتھارٹی کے قیام کے بل کے مطابق سیکرٹری خزانہ، خارجہ، داخلہ، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایس ای سی پی، چیئرمین نیب، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی اے این ایف، چیئرمین ایف بی آر، ڈی جی فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور نیکٹا کے نیشنل کوارڈینیٹر بھی اتھارٹی کے ممبران ہوں گے جبکہ چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹری یا ان کے نامزد کردہ نمائندے اتھارٹی کے ممبران ہوں گے، اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیں گے، وزیراعظم پاکستان کسی کو بھی اتھارٹی کا رکن نامزد کر سکیں گے۔
بل کے مطابق ہر سال اتھارٹی کے کم سے کم دو اجلاس ہوں گے، اتھارٹی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی قومی یا بین الاقوامی ادارے سے معاہدہ یا ایم او ایو کر سکے گی، اتھارٹی وفاقی، صوبائی حکومتوں یا اداروں سے کوئی بھی معلومات حاصل کر سکے گی،اتھارٹی کو فراہم کی گئی معلومات کو صیغہ راز میں رکھا جائے گا، نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ فنڈ قائم کیا جائے گا، اتھارٹی اپنی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ وفاقی حکومت کو بھجوائے گی، اتھارٹی کی جانب سے ایکٹ کے تحت نیک نیتی سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکے گی۔
قانون کی منظوری کے بعد نیشنل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کوآرڈینیشن کمیٹی اور نیشنل فنانشل ایکشن ٹاسک فور سیل ختم ہو جائیں گے۔



















