Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم میں کشمیرسر فہرست ہے، خواجہ آصف

وزیردفاع کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم اور بربریت کی داستان رقم کی جا رہی ہیں، مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم میں کشمیرسر فہرست ہے۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کو جیل کی ماند پیش کیا جا رہا ہے، اس صورتحال میں پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے، کشمیر میں امن کے بغیر خطے میں نہ تو کشیدگی کم ہو سکتی ہے اور نہ ہی امن قائم ہو سکتا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کشمیر میں کشیدگی کسی بھی وقت خطے میں تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ عالمی طاقتوں کی توجہ کسی اورجانب مرکوز ہیں۔ عالمی طاقتوں خصوصی طور پر مغربی ممالک کو یوکرائن کا مسئلہ نظر آرہا ہے۔ یوکرائن کا مسئلہ اپنی جگہ ہے۔ کشمیر، فلسطن، برما اور ہندوستان کے مسلمانوں پر ظلم و ستم پرعالمی طاقتوں کا ضمیر خاموش ہے۔

وزیردفاع نے کہا کہ پچہترسالہ کشمیر کا مسئلہ انہیں نظر نہیں آرہا۔ فلسطین کے مسئلے پر بھی ان کی توجہ نہیں جا رہی۔ اس فلیس پوائنٹ ہیں جس سے کسی بھی وقت عالمی امن تباہ ہو سکتا ہے۔ کشمیر اور فلسطین پر ظلم و ستم پر چند مسلم ملک کی جانب سے آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ دیگرطاقتیں ان مظالم پر خاموش ہیں۔ جب بھی بنی نوح انسان نے ظلم پر خاموشی اختیار کی ہے وہ کسی جنگ کا پیش خیمہ بنی ہے۔

اس سے قبل وزیردفاع خواجہ آصف نے بیت المال کے ویمن ایمپاورمنٹ سینٹر کا افتتاح کیا اور اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے ملک پچپن فیصد آبادی میں بہت کم خواتین اپنے خاندان کی کفالت کر رہی ہیں۔ روزگار کے مواقع اگر ریاست یا معاشرے کی جانب سے میسر نہیں وہ بذات خود اپنے ہنر سے کامیاب ہو سکتیں ہیں۔ اس قسم کے یہ تیسرا ادارہ ہے جو اپنا کام کرنا شروع کر رہا ہے۔ سیالکوٹ۔ ہمارے شہر میں کاٹیج انڈسٹری موجود ہے۔

انھوں نے کہا کہ روزگاری کے خاتمے کے لئے نوجوان اور خواتین کو ہنرمندی سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے چائیے۔ پاکستانی عوام کے پاس مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے وسائل موجود نہیں۔ مہنگائی تو پوری دنیا میں ہے۔ اگر خاندان کے افراد ہنرمند ہو جائیں تو وہ روزگار کما کر اپنے خاندان کی کفالت کر سکتے ہیں شہر اقبال ایک انڈسٹریل شہر ہے۔ اس سینٹر میں خواتین ہنر سیکھ کر روزگار کما سکتیں ہیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں۔    اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں