برطانوی نژاد معروف پاکستانی ٹک ٹاک و انفلوئنسر مہک بخاری اور ان کی والدہ پر دو نوجوانوں کے قتل کا الزام ثابت ہوگیا ہے۔
برطانوی عدالت نے ٹک ٹاکر مہک بخاری اور ان کی والدہ کو دہرے قتل کے کیس میں مجرم قرار دے دیا ہے۔

لیسٹر کراؤن کورٹ نے ٹک ٹاکر مہک بخاری اور ان کی والدہ انسرین بخاری پر ثاقب حسین اور محمد ہاشم نامی دو نوجوانوں کی کار کا پیچھا کرتے ہوئے جان بوجھ کر حادثہ کر کے قتل کرنے کا جرم عائد کیا ہے۔
دونوں ملزماؤں نے عدالت کے سامنے جرم سے انکار کیا ہے، تاہم دونوں کو یکم ستمبر کو سزا سنائی جائے گی۔
مہک بخاری اور ان کی والدہ نسرین کے خلاف یہ فیصلہ 3 ماہ کے ٹرائل کے بعد سنایا گیا ہے۔
![]()
خیال رہے کہ مجرمہ نے مبینہ طور پر سیکس ٹیپ کے ذریعے والدہ کو بلیک میل کرنے والے 21 سالہ ثاقب اور ان کے ساتھی ہاشم کو پلاننگ کے ذریعے قتل کردیا تھا۔
21 سالہ نوجوان ثاقب حسین کی جانب سے ٹک ٹاکر مہک بخاری کی والدہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات بے نقاب کرنے اور نازیبا ویڈیو استعمال کرنے کی دھمکی کے بعد دونوں خواتین نے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا اور 11 فروری 2022 کو ان کی کار کا پیچھا کرتے ہوئے حادثے سے دو چار کیا جس میں ثاقب اور ان کا دوست محمد ہاشم جاں بحق ہوگئے۔
حادثے سے کچھ دیر قبل ہی ثاقب نے پولیس کو ایمرجنسی کال کی تھی جس میں انہوں نے دو خواتین کی جانب سے اپنا پیچھا کیے جانے اور قتل کے خدشے کا اظہار کیا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















