پاکستان کے معروف اداکار نبیل ظفر نے فنکاروں کے لیے رائلٹی کا باقاعدہ نظام متعارف کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے مقبول ڈرامے ’بلبلے‘ سمیت متعدد پروگرام برسوں سے دوبارہ نشر کیے جا رہے ہیں لیکن فنکاروں کو اس کا کوئی مالی فائدہ نہیں ملتا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں نبیل ظفر نے کہا کہ اداکاروں کو رائلٹی نہ ملنا شوبز انڈسٹری کا ایک اہم مسئلہ ہے۔’بلبلے‘ مختلف ٹی وی چینلز پر دن میں کئی مرتبہ نشر ہوتا ہے تاہم بار بار نشر کیے جانے کے باوجود ڈرامے میں کام کرنے والے فنکاروں کو کوئی اضافی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔
اداکار نے کہا کہ اگر مجھے ڈرامے کی دوبارہ نشریات سے رائلٹی ملتی تو میں اور میرے بچے آج مالی طور پر زیادہ بہتر پوزیشن میں ہوتے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی اب تفریحی صنعت کا اہم حصہ بن چکے ہیں لیکن فنکاروں کو رائلٹی دینے کے معاملے پر چینلز کی جانب سے تعاون نہیں کیا جاتا۔
نبیل ظفر نے پاکستان میں اداکاری کو انتہائی منافع بخش شعبہ سمجھنے کے تاثر کو بھی مسترد کردیا اور کہا کہ دنیا بھر میں شوبز کا شمار زیادہ معاوضہ دینے والی صنعتوں میں ہوتا ہے لیکن پاکستان میں فنکار کو ادائیگی میں معمولی تاخیر بھی مالی مشکلات سے دوچار کر دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ بہت کم فنکار شوبز انڈسٹری کے مسائل پر کھل کر بات کرتے ہیں۔ فنکار بے بسی کی صورتحال میں ہیں اور اگرچہ سب کو مسائل کا علم ہے لیکن عوامی سطح پر ان کے حل کے لیے آواز اٹھانے والے بہت کم ہیں۔
’بلبلے‘ کی کامیابی کے حوالے سے نبیل ظفر نے بتایا کہ ڈرامہ 17 برس کے دوران 800 سے زائد اقساط مکمل کرچکا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں تک ناظرین کی دلچسپی برقرار رکھنا آسان نہیں تاہم ’بلبلے‘ نے طویل عرصے تک اپنی مقبولیت برقرار رکھی۔















