اسلام آباد: صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے 20 سال سے ملکیت کی منتظر خاتون کی جائیدادیں بحال کرانے کا حکم دے دیا۔
نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے 20 سال سے خاتون کو پلاٹوں کی ملکیت سے محروم رکھا گیا تھا۔ خاتون کو رجسٹرڈ سیل ڈیڈ رکھنے، تمام ترقیاتی چارجزکی ادائیگی کے باوجود قبضہ نہیں دیا جارہاتھا۔
تفصیلات کے مطابق صدرمملکت نے خواتین کے حقوق ِجائیداد کے تحفظ ایکٹ کے تحت یونیورسٹی ٹاؤن کی اپیل مسترد کردی اوریونیورسٹی ٹاؤن کو فوری طور پر پلاٹ کا قبضہ خاتون کو دینے کی ہدایت کردی۔
تفصیلات میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی ٹاؤن نے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت کے فیصلے کے خلاف صدر مملکت کو اپیل دائر کر رکھی تھی، عاصمہ کوکب (شکایت کنندہ) نے شکایت کی کہ سوسائٹی نے 1997 میں 10 اور 5 مرلہ کے دو پلاٹ رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ذریعے فروخت کیے۔
زمین کی قیمت، ترقیاتی چارجزسمیت واجبات کی ادائیگی کے باوجود قبضہ نہیں دیا گیا۔ انسدادِ ہراسیت محتسب نے متعلقہ ریونیو افسر کو خاتون کی جائیداد کا قبضہ بحال کرانے کا حکم دیا۔
یونیورسٹی ٹاؤن کی جانب سے محتسب کے فیصلے کے خلاف اپیل پر صدرمملکت نے ایوان صدر میں کیس کی ذاتی سماعت کی۔ سماعت میں شکایت کنندہ کا بیٹا اور یونیورسٹی ٹاؤن کے سی ای او اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوئے۔
سوسائٹی کا مؤقف تھا کہ شکایت کنندہ نے کئی نوٹسز کے باوجود ترقیاتی چارجز ادا نہیں کیے، الاٹمنٹ لیٹر کینسل کردیا گیا، خاتون نے پلاٹوں کی بحالی کیلئے رجسٹرڈ سیل ڈیڈز واپس نہیں کیے ، بجلی اور پانی فراہمی کے چارجز ادا نہیں کیے، محتسب کے احکامات قانون اور حقائق پر مبنی نہیں ، مسترد کیے جانے چاہیے۔
سماعت کے دوران شکایت کنندہ کے بیٹے نے ثبوت کے طور پر ترقیاتی چارجز ادائیگی کی رسیدیں پیش کردیں، صدر مملکت نے شکایت کنندہ کی جانب سے ادائیگیوں کا ریکارڈ رکھنے میں ناکامی پر سوسائٹی کی سرزنش کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ شکایت کنندہ نے ڈویلپمنٹ چارجز ادائیگی کی رسیدیں پیش کی ، ثبوت کے طور پر موجود ہیں۔
صدرعارف علوی نےسوسائٹی کی جانب سے معاملے کو تقریباً 20 سال تک لٹکانے پر بھی اظہار ِبرہمی بھی کیا اورکہا کہ افسوس کہ ایک اوور سیز پاکستانی کو والدہ کے پلاٹوں کے قبضے کیلئے دربدر کیا گیا، ریکارڈ پر دستیاب شواہد سے ثابت ہوا کہ شکایت کنندہ دو نوں پلاٹوں کی مالک ہیں۔
صدرمملکت نے کہا کہ ثابت ہوا کہ ٹاؤن کے سی ای او نے رجسٹرڈ سیل ڈیڈز جاری کیے، ٹاؤن کے سی ای او عبدالعزیز نے ان حقائق سے انکار بھی نہیں کیا۔
صدر مملکت نے رسیدوں کی بنیاد پر پلاٹوں کے بقایاجات جمع نہ کرانے کا سوسائٹی کا مؤقف مسترد کر دیا اور حکم دیا کہ سوسائٹی نے مسلسل مطالبہ کیا کہ قبضے کیلئے رجسٹرڈ سیل ڈیڈز واپس کیے جائیں۔ ڈیڈز واپس کرنے کی کوئی منطق نہیں ، خاتون کا خدشہ درست ہے کہ قبضہ لیے بغیر کاغذ کیوں واپس کرے ، سوسائٹی کی جانب سے رجسٹرڈ سیل ڈیڈز واپس کرنے کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔
سماعت کے دوران سی ای او نے خاتون کو پلاٹوں کے قبضے سے بلاجواز انکار کا اعتراف کرلیا۔
صدرعارف علوی نے کہا کہ انتہائی افسوسناک امرہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کو املاک کے تحفظ کے بنیادی حق سے محروم کیا گیا، آئین کے تحت کسی بھی شخص کو جائیداد کے حق سے ماورائے قانون محروم نہیں کیا جاسکتا۔ سمندر پار پاکستانیوں بالخصوص خواتین کی شکایات کے ازالے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ قانون کا تحفظ ہرشہری بشمول سمندر پار پاکستانیوں کا ناقابل تنسیخ حق ہے۔
صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے یونیورسٹی ٹاؤن کو فوری طور پر پلاٹ کا قبضہ خاتون کو دینے کی ہدایت کی، کہا کہ رسیدوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاتون نے تمام ترقیاتی چارجز ادا کیے، خاتون کے ذمے کوئی چارجز واجب الادا نہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















