Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مودی کے ہندوستان میں نچلی ذات کے ہندوؤں کا وجود خطرے میں پڑ گیا

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی سالانہ رپورٹ نے مودی سرکار کے جمہوریت کے دعوؤں کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی سالانہ رپورٹ کے مطابق صرف 2021 میں دلت ہندوؤں کے خلاف 60 ہزار سے زائد جرائم رپورٹ ہوئے، گزشتہ 5 برسوں میں نچلی ذاتوں کے ہندوؤں کے خلاف ڈھائی لاکھ سے زائد نفرت انگیز جرائم رپورٹ۔

انٹرنیشنل دلت کانفرنس کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی زیر حکومت ریاست اتر پردیش 13 ہزار جرائم کے ساتھ سر فہرست ہے، اوسطاً روزانہ ہر 10 منٹ میں ایک دلت کے خلاف تشدد کا واقعہ پیش آتا ہے۔ تقریباً 90 فیصد غریب اور 95 فیصد ان پڑھ ہندو نچلی ذات کے ہندو ہیں۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیوروکی رپورٹ میں کہا گیا کہ نچلی ذات کے ہندوؤں کے خلاف جرائم سے متعلق 71 ہزار سے زائد مقدمات ہندوستانی عدالتوں میں زیر التوا ہیں، نچلی ذات کے ہندوؤں کے خلاف جرائم میں سزا کی شرح 15 فیصد سے بھی کم ہے۔

این بی سی نیوز کے سروےکے مطابق مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد دلت ہندوؤں کے خلاف جرائم میں 66 فیصد اضافہ ہوا۔ تقریباً 45 فیصد ہندؤ کسی دوسرے مذہب یا نچلی ذات کے ہندوؤں کو بطور ہمسایہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق آبادی کا 25 فیصد ہونے کے باوجود دلت ہندؤ معاشرتی تنہائی، سماجی تفریق اور معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ 2018 میں ریاست تامل ناڈو میں دو دلت ہندوؤں کو اونچی ذات کے ہندوؤں کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے پر قتل کر دیا گیا۔ مارچ 2000 میں کرناٹکا میں انتہا پسندوں نے دلت خاندان کے 7 افراد کو زندہ جلا ڈالا۔

اسی طرح دسمبر 2012 میں تامل ناڈو میں دلت ہندوؤں کے 268 گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ نچلی ذات کے ہندوؤں سے نفرت کی وجہ سے ہندوستانی آئین کے بانی ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے 1956 میں 5 لاکھ دلت ہندوؤں سمیت بدھ مذہب اختیار کر لیا تھا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں