وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی ہلچل اور آئے روز دھرنوں اور احتجاج نے معیشت کو نقصان پہنچایا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چودہ ماہ کسی بھی حکومت کیلئے مختصر ترین عرصہ ہے، بے پناہ چیلنجز اور مشکلات سامنے آئیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ سابق حکومت کی بد ترین ناکامیوں کی بدولت سارا بوجھ ہم پر آن پڑا ، سابق حکومت نے امریکہ سے ہمارے تعلقات کو متاثر کیا۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ چین کے خلاف بلا جواز پروپگینڈا کیا گیا، پوری دنیا کے آگے ہماری گردن کو جھکایا گیا اور سابق دور حکومت میں سب کو چور اور ڈاکو کہا گیا ، ان حالات میں ہم نے اقتدار سنبھالا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سولہ ماہ میں کسی مخالف کو بے قصور جیل میں نہیں ڈالا، سابق دور میں گندم کی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے درآمد کرنی پڑی جبکہ ہمیں بجلی، گیس، تیل کی قیمتیں بڑھانی پڑیں
شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک مہنگائی کے چکر میں پھنسا ہوا تھا، سیاسی ہلچل اور آئے روز دھرنوں اور احتجاج نے معیشت کو نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ سید نوید قمر بہت کام کے آدمی ہیں بلاول سے کہتا ہوں کہ انہیں مسلم لیگ ن میں بھیج دیں، کل اگر ہمارے درمیان نگران وزیر اعظم کے درمیان کسی ایک نام پر متفق نہ ہوسکے تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ کل اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سے ملوں گا اور نگران وزیر اعظم کے لئے باضابطہ مشاورت کروں گا ، نگران وزیر اعظم کے نام پر ہمارے درمیان اتفاق نہ ہوا تو پھر معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا۔



















