وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئین کے تحت نگران وزیراعظم کے اعلان تک میں وزیراعظم ہوں۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نگران وزیراعظم سے متعلق خط لکھنے سے پہلے صدر مملکت کو آئین کی کتاب پڑھ لینی چاہیے تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئین کے تحت نگران وزیراعظم کے اعلان تک میں وزیراعظم ہوں، تین دن میں اگر اپوزیشن لیڈر کے ساتھ اتفاق رائے نہ ہوا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تین روز پارلیمانی کمیٹی کے پاس ہوں گے جس کے بعد اتفاق رائے نہ ہوا تو دو روز الیکشن کمیشن کے پاس ہوں گے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج اتحادیوں کے اجلاس کے بعد اپوزیشن لیڈر سے ملاقات متوقع ہے، آج ملاقات نہ ہو سکی تو کل ضرور ہوگی جبکہ کوشش ہوگی کہ نگران وزیراعظم پر اتفاق رائے ہو جائے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ 16 ماہ میری زندگی کا سب سے مشکل دور تھا، سابق حکومت نے ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی کو بھی نقصان پہنچایا، سابق حکومت نے امریکہ پر بے بنیاد الزامات لگائے
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات تقریبا ختم ہو چکے تھے، اب امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری آنی شروع ہوئی ہے۔
شہباز شریف نے چیئرمین تحریک انصاف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسان وہ کام کرے جس کے نتائج وہ برداشت کرسکے، دو دن میں سائفر کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی ملکی ترقی کا مکمل ویژن ہے، سول اور عسکری قیادت نے ملک کو ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔



















