Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہم نےریاست بچائی، ریاست بچانےکا مطلب سب بچ گیا، وزیراعظم کی صحافیوں سے گفتگو

وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہم یہ مانتے ہیں ہمارا ووٹ بنک متاثر ہوا، لیکن ہم نے ریاست بچائی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ریاست بچ گئی توسب کچھ بچ گیا۔

وزیراعظم شہبازشریف نے صحافیوں سے ملاقات کی اور گفتگو میں کہا کہ 16ماہ مشکل حالات میں حکومت چلائی، 16ماہ میں ایک روپے کا اسیکنڈل ہمارے خلاف نہیں آیا،آئندہ انتخابات ” ووٹ کوعزت دو” کے نعرے پرلڑیں گے۔

اسٹبلشمنٹ سے تعلقات سےمتعلق سوال پر انھوں کہا کہ کس دورمیں میرے اسٹبلشمنٹ کےساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے، لیکن یہ بتائیں کہ مجھے کب اور کس موقع پر رعایت دی گئی،  16 ماہ کی حکومت میں 8 ماہ احتجاج اورمارچ کی نظرہوئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا متفقہ فیصلہ ہےکہ اگراکثریت ملی تووزیراعظم نوازشریف ہوں گے، نوازشریف کی واپسی میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں، الیکشن ایکٹ کی ترمیم سےنوازشریف کی نااہلی ختم ہوچکی ہے۔

منصوبوں کی افتتاحی تقریب میں آرمی چیف کی تعریف کے سوال پر انھوں نے جواب دیا کہ آرمی چیف کی تعریف کرنے میں حرج کیا ہے؟ نگراں وزیراعظم کا فیصلہ ایک دوروز میں ہوجائےگا، قائد حزب اختلاف سے آج بھی ملاقات شیڈول ہے، انتخابات کا فیصلہ الیکشن کمیشن کی ہے۔

وزیراعظم نے مذید کہا کہ ن لیگ کی خواہش ہے کہ جلد ازجلد اانتخابات ہوں، پاورسیکٹر میں میجر سرجری کی ضرورت ہے، نوازشریف نے اپنے دور میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کی، اس سے بڑا کیا کارنامہ ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے ملکی مفادات کوملحوض خاطرنہیں رکھا، 3ستمبر 2014 رات 12 مجھے چینی سفیرکا فون آیا، چینی سفیر نے چینی صدر کا دورہ ملتوی ہونے کا بتایا، آگلے روز اس وقت کے آرمی چیف سے ملاقات کی، ملاقات میں آرمی چیف سے چینی صدر کا دورہ یقینی بنانے کا کہا۔ تاہم تحریک انصاف دھرنا ختم کرنے سے انکارکیا۔

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ 16 ماہ کی حکومت کے سیاسی راز کبھی افشاں نہیں کرونگا، اگرہم کسٹم ڈیوٹی کی مد میں کنٹرول کرلیں تونیا ٹکس نہ لگانا پڑے، ہم نے اشرافیہ پر سپر ٹیکس لگایا تو اسٹے آرڈ آگیا۔

انھوں نے مذید کہا کہ اس وقت عدلیہ میں 60 ہزارکیسز التواء کا شکار ہیں، کیسز التواء کے باعث 26 ہزارارب روپیہ ریکور نہیں ہورہا، تمام اتحادیوں نے نگراں وزیراعظم اختیار دیا، صرف ایک جماعت نے کہا ہماری لیڈرشپ سے بات کرلیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں