نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ حکومت کا کام لوگوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت اجلاسوں میں مختلف وزارتوں کے اہم امور پر بریفنگ دی گئی۔
انوار الحق کاکڑ کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کام رفتار تیز کرنے کی ہدایت کردی۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ہدایات دیں کہ کراچی تا چمن شاہرہ کی ازسر نو تعمیر پر کام شروع کیا جائے اور کام کی رفتار تیز کرنے کیلئے آؤٹ آف دی باکس اپروچ برؤے کار لائی جائے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق اجلاسوں میں گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے بہترین انفراسٹرکچر کلیدی حیثیت رکھتا ہے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی ملک میں سڑکوں کی تعمیر و نگرانی کے حوالے سے بہترین کردار ادا کر رہی ہے، ملک کے ایسے حصوں میں روڈ انفراسٹرکچر کو ترجیحی بنیادوں پر بنانے کی ضرورت ہے جہاں بیرونی سرمایہ کاری متوقع ہے۔،لوچستان میں روڈ انفراسٹرکچر پر خصوصی کام کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام لوگوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنا ہے، بلوچستان کی دوسرے صوبوں سے رابطہ سڑکوں کو بہتر کیا جائے۔
اس موقع پر نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو بتایا گیا کہ پنجرا پُل جو گزشتہ برس سیلاب سے تباہ ہو گیا تھا اس کی تعمیر نو پر کام آئندہ ماہ سے شروع کر دیا جائے گا، گزشتہ برس سیلاب کے بعد پُل سے گزنے والی ٹریفک کیلئے کاز-وے بنا دیا گیا تھا جس سے ٹریفک میں خلل کو دور کر دیا گیا 15 میٹر اونچے اور تقریباً 12 میٹر چوڑے نئے پُل کی تعمیر کیلئے درکار وقت کا تخمینہ 9 ماہ لگایا گیا ہے۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے پُل کی تعمیر کیلئے درکار وقت میں کمی لانے کی ہدایت کی.
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ پنجرا پُل کی تعمیر کے ساتھ ساتھ 118 کلومیٹر طویل کوئٹہ دھادر روڈ اور 188 کلومیٹر طویل دھادر جیکب آباد روڈ کی ازسر نو تعمیر و بحالی بھی کی جائے گی جس سے نہ صرف وقت اور ایندھن کی بچت ہوگی بلکہ ٹریفک کا رش بھی کم ہوگا۔
اجلاس کو سوار پُل پر جاری مرمتی کام سے بھی آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ 282 میٹر طویل سوار پُل کی مرمت کا کام حتمی مراحل میں ہے جبکہ اس دوران متبادل راستہ نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک بھی نہیں روکی گئی.
اجلاس کو بتایا گیا کہ اس پُل کی ازسر نو تعمیر پر بھی جلد کام شروع کیا جائے گا جس میں درکار مدت کا تخمینہ 6 ماہ لگایا گیا ہے۔



















