Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سانحہ جڑانوالہ؛ املاک کے نقصان کی ابتدائی رپورٹ تیار

سانحہ جڑانوالہ میں املاک کے نقصان کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی۔

تفصیلات کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں 19 چرچ جلائے گئے، 86 مکانات کو توڑ پھوڑ کے بعد جلایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق کرسچن کالونی، عسیٰ نگری، فاروق پارک متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پنجاب کے گزشتہ روز ضلع فیصل آباد کے شہر جڑانوالہ میں توہین مذہب کے مبینہ واقعے کے خلاف احتجاج کی آڑ میں مشتعل افراد نے  کرسچین کالونی اور عیسیٰ نگری میں 4 گرجا گھروں، مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی رہائش گاہوں اور مقامی اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر پر بھی حملہ کیا تھا۔

اس دوران مسیحی برادری کے قبرستان اور مقامی اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی تھی، اس واقعے کے بعد پنجاب حکومت نے رینجرز کو طلب کیا جب کہ ایلیٹ فورس سمیت مختلف پولیس یونٹوں کے 3000 پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے۔

ڈپٹی کمشنر علی عنان قمر کا کہنا ہے کہ جڑانوالہ میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے، شہر میں امن و امان کی مکمل بحالی اور صورتحال معمول پر آنے تک دفعہ 144 نافذ رہے گی جب کہ جڑانوالہ میں کشیدہ صورتحال کے باعث ضلع بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، ضلع بھر میں کل تمام تعلیمی ادارے اور دفاتر  بند رہیں گے۔

بعد ازاں فیصل آباد پولیس نے جڑانوالہ میں مساجد میں اعلانات کر کے عوام کو اشتعال دلانے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے، ملزم کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم یاسین کو منظر عام پر آنے والی ویڈیو کی مدد سے گرفتار کیا گیا، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم مسجد کے اسپیکر پر لوگوں کو جمع ہونےکا کہہ رہا ہے۔

پولیس کا دیگر ملزمان تک پہنچنے کے لیے کریک ڈاؤن جاری ہے اور اب تک 100 سے زائد افراد کو گرفتار کر کے دو مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، 37 نامزد اور 600 سے زائد نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمات میں انسداد دہشت گردی اور توہین مذہب سمیت 13 سے زائد دفعات لگا دی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق کچھ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ کرسچین کالونی میں عامر نامی نوجوان نے مبینہ طور پر چند توہین آمیز پمفلٹ لکھے اور مبینہ طور پر قران پاک کے چند اوراق کی بھی بے حرمتی کی۔ الزامات لگانے والوں نے مختلف مساجد میں جا کر لوگوں کو واقعے پر اپنا ”ردعمل“ دکھانے کے لیے اکسایا اور اعلانات کیے۔  جس کے بعد واقعے کی اطلاع ملنے پر مشتعل افراد کی بڑی تعداد علاقے میں جمع ہو گئی اور توڑ پھوڑ شروع کر دی۔

ایف آئی آر کے مطابق لوگوں کے ایک گروپ کی قیادت میں 500 سے 600 افراد کے ہجوم نے مسیحی برادری پر حملہ کیا، لوگوں کے گھروں میں داخل ہونے کے بعد توڑ پھوڑ کی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں