Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

قبل از وقت بالوں سے محروم ہونے کی عام وجوہات؛ جانیے

خواتین کے مقابلے میں مردوں میں بالوں سے محرومی کا امکان زیادہ ہوتا ہے لیکن کیا آپ اس کی عام وجوہات جانتے ہیں؟ اگر نہیں تو آج ہم آپ کو بتائیں گے۔

بالوں سے محرومی کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں جن میں سے کچھ کو کنٹرول کرنا بھی ممکن ہوتا ہے۔

بالوں کی اسٹائلنگ

ماہرین کے مطابق بالوں کے مشکل اسٹائل اور ٹریٹمنٹس سے بھی گنج پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔

بالوں کو سختی سے باندھنے، کیمیکلز کا استعمال، ہاٹ آئل ٹریٹمنٹس یا دیگر سے بالوں کی جڑیں متاثر ہوسکتی ہیں جس سے ان کی نشوونما رک جاتی ہے۔

بالوں کو توڑنے کی عادت

اگر آپ عادتاً بالوں کو کھینچ کر توڑتے ہیں تو یہ جان لیں کہ ایسا کرنا نقصان دہ ہوتا ہے۔ جس بال کو کھینچ کر توڑا جاتا ہے وہ دوبارہ نہیں اگتا تو اس عادت سے بچنا ہی بالوں سے محرومی کا خطرہ کم کرتا ہے۔

وٹامن اے کا بہت زیادہ استعمال

سپلیمنٹس یا ادویات کی شکل میں وٹامن اے کا زیادہ استعمال بالوں کے گرنے کا عمل تیز کردیتا ہے۔

ہمارے جسم کو روزانہ 5 ہزار انٹرنیشنل یونٹ وٹامن اے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ سپلیمنٹس میں یہ مقدار ڈھائی سے 10 ہزار آئی یو تک ہوتی ہے، تو بالوں سے محرومی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

تناؤ یا بیماری

تناؤ کے شکار افراد کے بال بہت تیزی سے گرنے لگتے ہیں جبکہ کسی بیماری سے جسم پر بڑھنے والے تناؤ سے بھی بالوں کی نشوونما رک سکتی ہے۔

پروٹین کی کمی

غذا میں پروٹین کی بہت کم مقدار کا نتیجہ بالوں سے محرومی کی شکل میں نکلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے ڈائیٹنگ کرنے سے لوگوں کے بال تیزی سے گرنے لگتے ہیں۔

آئرن کی کمی

آئرن کی کمی کو بالوں سے محرومی کی وجہ قرار دیا ہے۔ آئرن کی کمی انیمیا کا باعث بنتی ہے جس کے باعث تھکاوٹ، سانس لینے میں مشکلات یا سینے میں تکلیف جیسی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

ماہرین کے مطابق جسمانی وزن میں کمی سے بھی بالوں کا گھنا پن کم ہوتا ہے۔ ویسے تو جسمانی وزن میں کمی لانا صحت کے لیے مفید ہوتا ہے مگر اس سے جسم پر غیرضروری تناؤ بڑھتا ہے جو بالوں کی صحت پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔

مخصوص ادویات

ایک تحقیق کے مطابق مختلف ادویات بالوں سے محرومی کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ ان میں خون پتلا کرنے والی اور بلڈ پریشر پر قابو پانے والی ادویات نمایاں ہیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں