Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

“بجلی کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوئی تو ہم بھی احتجاج کا حصہ بننے پر مجبور ہونگے”

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوئی تو عوامی مفاد میں ہم بھی احتجاج کا حصہ بننے پر مجبور ہونگے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے ڈاکٹر فاروق ستار کے ہمراہ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورے پاکستان میں بجلی کے بحران پر صورتحال کشیدہ اور سنگین ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں پاکستان کے دوسرے علاقوں سے زیادہ گھمبیر صورتحال نظر آ رہی ہے، ایسا لگتا ہے متوسط طبقے کو بھی معذور کر دیا جائے گا کہ وہ بل ادا نہ کر سکے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جس رفتار کے ساتھ بجلی کے بل بڑھ رہے ہیں ایسا لگتا ہے ایک بڑا بحران ہمارا منتظر ہے۔  نگران وزیر اعظم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کے حل کے لیے  اقدامات اٹھائیں۔

انکا کہنا ہے کہ ہمیں اس بات کا خدشہ ہے کہ احتجاج کہیں فسادات میں تبدیل نہ ہو جائے، اگر بجلی کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوئی تو عوامی مفاد میں ہم احتجاج کا حصہ بننے پر مجبور ہونگے۔

ایم کیو ایم کے کنوینر نے کہا کہ ہم نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے اور اب تک کر رہے ہیں، کراچی کو واپڈا کی دائرہ ذمہ داری سے دور اور باہر رکھا گیا ہے، ہم پہلے بھی اس حوالے سے تجاویز ایوانوں میں اور حکمرانوں کو پیش کرتے رہے ہیں۔

خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات اٹھانا نگران حکومت کی ذمہ داری ہے، حیدرآباد میں 12 ،12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، کراچی اور حیدرآباد کے تاجروں نے احتجاج کی کال دی ہے، اگر اس معاملے پر کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو ہم احتجاج کا حصہ بننے پر مجبور ہیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار 

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ملک تیزی سے انار کی کی جانب جا رہا ہے، بجلی کے بل نچلے طبقوں کی پہنچ سے آگے نکل گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے بحران میں بجلی کے بل متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں، پوری دنیا میں بجلی استعمال کرنے پر نہیں ٹیکس لیا جاتا، کے الیکٹرک کے پاس جو بل آ رہے تھے اب وہ بل ادا نہیں ہونگے۔

فاروق ستار نے کہا کہ لوگوں میں بغاوت کا رجحان آ رہا ہے، اگر یہی حالات رہے تو پھر اس ریاست کے اندر کئی ریاستیں بنیں گی، آپ نے دیکھا تاجروں نے کس طرح غم و غصے کا اظہار کیا،  ہم عوام اور کراچی کے تاجروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

انکا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے سامنے یہ صورتحال رکھی جائیں، آئی ایم ایف اسی طرح ڈکٹیشن دیتا رہا تو ہم بہت نقصان اٹھائیں گے، کوئی ایک سیاسی جماعت کراچی کے مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں